تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 172
۱۷۲ تقام احمدی ملازم ، تاجر ، صنایع اور طالب علم اپنے فرائض پوری تندہی کے ساتھ ادا کریں وقت زندگی کی تحریک ہمیشہ قائم رہے۔اشاعت اسلام کے لئے غیر احمدی معزز مین سے بھی چندہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ پچیس پچیس لاکھ تک پہنچا دیں۔بیرونی ممالک میں بھی نظام الوصیت جاری کیا جائے اور مختلف ممالک میں مغیرہ بہشتی کی نیابت " کے طور پر بہشتی مقبرے تیار کئے جائیں۔تقریب کے آخر میں حضور نے بیرونی ممالک میں خدا کے گھروں کی تعمیر دیوہ میں انڈسٹریاں قائم کر کے جلد جلد آباد کرنے اور قرآن کے روسی ترجمہ کی جلد اشاعت کی طرف خصوصی توجہ ولائی۔اس پر معارف تقریر کے چند اقتباسات بطور نمونہ ذیل میں سپرد قلم کئے جاتے ہیں۔۔دا خدمت خلق مومن کا ایک خاصہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کا خلاصہ ہے تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ یعنی انسان خدا سے محبت کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرے۔پچھلے سیلابوں کے وقت میں پاکستان کے خدام نے نہایت اعلیٰ درجہ کانمونہ دکھایا ہے۔اس طرح قادیان کے خدام نے بھی اچھا نمونہ دکھایا ہے اور اس کا لوگوں کی طبیعتوں پر بڑا اثر ہوا ہے یاد رکھو کہ اس وقت تک یورپ کے لوگ مسلمانوں کو یہی طعنہ دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ منہ سے تو بڑی اچھی تعلیمیں بیان کرتے ہیں۔لیکن عملاً ان لوگوں کا یہ حال ہے یہ کبھی بھی بنی نوع انسان کے لئے کوئی قربانی نہیں کر سکتے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم محض زبانی ہے عملی نہیں وہ تو حکومت کے متعلق کہتے ہیں کہ کہنے کو تو حکومت کے متعلق بہت اچھے قانون ہیں مگر کون سی اسلامی حکومت ہے جس نے اسلام پر ٹل کیا ہے ، مگروہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔نہ ہمارے پاس حکومت ہے نہ ہم وہ نمونہ دکھا سکتے ہیں۔اگر کسی ملک میں اللہ تعالیٰ نے حکومت دی اور وہاں کے احمدیوں کے اندر اخلاص قائم رہا اور انہوں نے نمونہ دکھایا تو پھر اُن کا منہ بند ہوگا۔گر کم سے کم جو ہمارے اندر خدمت خلق کی طاقت ہے اس کا تو ہم نمونہ دکھا ئیں۔پس ہمیں ہر موقع پر خدمت خلق کو پیش نظر کرنا چاہیے۔مگر یہ بھی یاد رکھتا چاہیئے کہ یہ انتظار کرنا کہ کوئی طوفان آئے تو پھر خدمت خلق کہ ہیں، یہ بری بات ہے۔یہ دعاکرنی چاہئے کہ خدا طوفان نہ لائے خدمت کے ہر وقت مواقع ہوتے ہیں۔مثلاً ہوائیں دنیا میں ہوتی رہتی ہیں بتائی ہوتے ہی رہتے ہیں۔ان کے لئے بیماریوں میں نسخے لا دیا۔دوائیاں لا دینی۔گھر کا سامان خرید کے لا دیا۔یہ چیز ہر وقت ہو سکتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو طوفانوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسرے **