تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 169
149 اس سلسلہ میں حضور نے حضرت ابراہیم اور حضرت علی کی مثال دیتے ہوئے فرمایا :۔ابراہیم کی نسل میں بھی ان کے ایک بیٹے سے بارہ امام بنے تھے، اسی طرح حضرت علی سے بھی بارہ امام پیدا ہوئے۔مگر کتنا افسوس ہے کہ بعض مخلص لوگ فوت ہوتے ہیں تو ان کے بیٹے ہیں خراب ہو جاتے ہیں اور بعض کا پوتا خواب ہو جاتا ہے۔مگر علی کے اندر کیسا ابراہیمی ایمان تھا اور ابراہیم کے اندر کیا ایمان تھا کہ بارہ نسلوں تک میرا بہ اُن میں یہ ذمہ داری کا احساس چلتا چلا گیا کہ ہم نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اگر تمہارے بچے بھی یہ ارادہ کر لیں تو پھر کوئی فکر نہیں بڑھوں نے تو آخر مرنا ہے۔خدا تعالیٰ نے آدم کے زمانہ سے لیکر آج تک ہر ایک کے لئے موت مقرر کی ہوئی ہے مگر جب یہی بچے بڑھے بن جائیں گے تو پھر کوئی فکر نہیں ہوگی کہ دین کا کیا بنے گا۔یہی نو دس سال کے بچے ایسے طاقت اور پہاڑ نہیں گے کہ اگر دنیا ان سے ٹکرائے گی تو دنیا کا سر پاش پاش ہو جائے گا مگر یہ اپنے مقام سے نہیں ہٹیں گے ، اور احمدیت کو دُنیا کے کناروں تک پہنچا کے رہیں گے۔لیکن یہ سارے کام دعاؤں سے ہو سکتے ہیں ہمارے اختیار میں تو خود اپنا دل بھی نہیں ہوتا لیکن خدا کے اختیار میں ہمارا بھی دل ہے اور ہماری اولادوں کا بھی دل ہے اور اولادوں کی اولادوں کا بھی دل ہے۔ہمیں تو دس بارہ نسلیں کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کیوں کہ نظر تو یہ آتا ہے کہ بارہ تک پہنچنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔اگر یہ دریا کی ہر ہمارے دہانے میں سے گزرے تو خبر نہیں بارہ نسلوں تک پہنچے گی بھی یا نہیں مگر خدا کی یہ طاقت ہے کہ وہ بارہ ہزارہ نسلوں تک پہنچا دے اس لئے آؤ ہم خدا سے دعا کہیں کہ وہ اس طلبہ کو با برکت کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کو ہزاروں پشتوں تک دین کا بوجھ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیشہ ان میں ایسے کامل انسان پیدا ہوں جو اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق رکھنے والے ہوں اور اس کے دین کی اشاعت کرنے والے ہوں تاکہ احمدیت اور اسلام کا پیغام دنیا میں پھیل جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو جائیں۔اپنی طاقت سے نہیں ، اپنی قوت سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کیونکہ یہ طاقت خدا میں ہے ہم میں نہیں ؟۔حضور نے خطاب کے آخر میں خاص طور پر دو امور کا ذکر فرمایا۔ایک تو یہ کہ دوست دُعا ه روزنامه الفضل ربوه ۱۰ر فروری ۱۹۵۷ ه م۔