تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 168 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 168

لگے اسماعیل ڈاکٹری میں پڑھتا ہے۔اسحق اگر آپ کے پاس قرآن حدیث پڑھے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیشہ میرا ایک بیٹا میرے دوسرے بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گا کہ میرے لئے کچھ کھانے کا سامان کر و حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ میر صاحب آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا دوسرے بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گا۔آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ میرے اس بیٹے کے طفیل خدا دوسر بیٹے کو رزق دے گا تو اپنی اولاد کو آپ لوگ یہ احساس پیدا کہ ائیں کہ جو تم میں سے واقف زندگی ہو تمہارا فرض ہے کہ اپنی آمدنوں میں سے ایک معقول حصہ اس کی خدمت کے لئے دیا کرو تاکہ اس کی فکر معیشت دور ہو جائے۔سو ایک طرف جو دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے ہیں ان کو یہ تعلیم دیں اور جو دوسرے ہیں اُن کو دینی تعلیم دلائی اور اصل چیز تو یہ ہے کہ قرآن شریف اور حضرت مسیح موعود اور عليه الصلوۃ والسّلام کی کتابیں پڑھ پڑھ کے آپ لوگ خود اپنی تعلیم اتنی مکمل کریں کہ اپنے گھروں میں ہی ہر شخص واقف ہو جائے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو صحابہ تھے وہ کون سے شاہد پاس تھے ؟ بس اک آگ ان کے دلوں میں لگی ہوئی تھی۔وہ آگ لگ جائے تو سب کام آپ ہی آپ ہو جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو غور سے پڑھتے ہیں بسلسلہ کا لٹریچر غور سے پڑھتے ہیں قرآن شریف وحدیث غور سے پڑھتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کو کوئی بڑا علم آنا ہو وہ دنیا کے بڑے سے بڑے عالم پر غالب آجاتے ہیں اور کوئی شخص ان کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔مجھے یاد ہے لنڈن میں ہمارے مبلغ ہوتے تھے چودھری ظہور احمد باجوه وده آجکل ناظر در شد و اصلاح ہیں اُن کے ساتھ بعض دفعہ لوگوں کی گفتگو ہوتی تھی بعض دفعہ انگریزوں کی اور بعض دفعہ جو بڑے بڑے ہوشیار اور جہاندیدہ پیغامی مبلغ وہاں ہیں اُن کی جب وہ سوال و جواب آتا تو ہمیشہ اُن کا خط پڑھ کر میرا دل کا پتا تھا کہ یہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں مگر ہمیشہ ہی میں نے دیکھا کہ جب میں ان کا جواب پڑھتا تھا تو دل خوش ہو جاتا تھا وہ ایسا مکمل اور اعلی جواب ہوتا تھا کہ میرا دل مانتا تھا کہ اس شخص کی اللہ تعالٰی نے مدد کی ہے۔نے بعد ازاں ناظر امور عامہ بنے اب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن) ہیں۔سے روز نامر الفضل دیوه از فروری ۹۵۶ ۵۲ -