تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 5
ہے یا لے شمع خلافت کے پروانے جب دیکھتے کہ اُن کا جان سے بھی پیارا آقا اُن کے درمیان موجود نہیں تو اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا جاتیں اور اُن کے قلوب کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلتی کہ خد اکر سے وہ دن جلد از جلد آ جائے جبکہ حضور صحت کاملہ اور عاجلہ کے ساتھ ہم خادموں کے درمیان رونق افروز ہوں اور ہمیں حضور کے روح پرور کلمات سننے اور حضور کی برکات سے مستفیض ہونے کی سعادت حاصل ہو۔افتتاح ح بہر کیف افسردگی اور متفرقانہ دعاؤں کے اس ماحول میں مشاورت کی افتتاحی کارروائی حسب پروگرام ، اپریل کو ٹھیک ۲ بجے بعد دو پر شروع ہوئی۔تلاوت قرآن کریم جناب صالح شیبی صاحب انڈونیشین نے کی۔اس کے بعد صدر مجلس مرزا عبدالحق صاحب نے حاضرین سمیت دعا کی اور فرمایا افسوس ہے کہ ہم اس مرتبہ ایسے حالات میں یہاں جمع ہوئے ہیں کہ حضرت مصلح موعود اپنی بیماری کی وجہ سے ہم سے دُور تشریف لے گئے۔حضور کی عدم موجودگی میں دوستوں کو زیادہ سے زیادہ دعاؤں سے کام لینا چاہئیے تا کہ عملی لحاظ سے ہم پہلے کی نسبت بہتر ہو جائیں اور جس رنگ میں ہم سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے اُسی رنگ میں ہم اپنی قربانی پیش کر سکیں اور ہماری طرف سے جو اطلاعات حضور کی خدمت میں پہنچیں وہ حضور کے لئے خوشی کا موجب ہوں۔صدر مجلس نے اس اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانے کے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نوٹ بعد حضرت مرا بشیر احمدصاحب بریتی یک کار تم میشود مقامی مندرجہ ذیل نوٹ پڑھ کرشنا یا :- " حضرت صاحب کی بیماری میں جماعت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہو گئی ہے جماعت کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔اپنے اندر تقوی پیداکریں اور اندرونی اور بیرونی حقیقة الوحی صفحہ ۱۶، ۷ طبع اول مطبوعہ مطبع میگزین قادیان - تاریخ اشاعت ۵ در مئی