تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 134 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 134

۱۳۴ نہیں مانے گا وہ دوسرے الفاظ میں قرآن کریم کو بھی نہیں مانے گا۔لیکن ہم تو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کریں۔لفظ خاتم النبيين کی تشریح میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔شخص جو قرآن کریم کو مانتا ہے لانگا وہ آپ کو خاتم النبین بھی مانے گا۔جب ہماری جماعت کے افراد معترضین کو یہ جواب دیتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ تم قرآن کریم کو بھی نہیں مانتے تم تو مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام ) کے الہامات کو قرآن کریم سے افضل سمجھتے ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم آپ کے الہامات کو قرآن کریم کے تابع سمجھتے ہیں اور انہیں قرآن کریم کا خادم قرار دیتے ہیں۔جیسے مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں۔اسی طرح آپ کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔انہیں کوئی علیحدہ اور منتقل حیثیت حاصل نہیں چنانچہ آپ نے اپنی کتابوں میں صاف طور پر لکھا ہے کہ اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطب ہرگز نہ پانا " وتجلیات الهیه ۲۳ (۲۵)۔پس جس طرح یہ بات بھی ہیچ ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو قرآن کریم کا مخالف یا اسے رد کرنے والا سمجھتا ہے تو وہ احمدیت اور اسلام سے خارج ہے۔بہر حال گو یہ بات انتہائی غیر معقول تھی لیکن کہا جاتا تھا کہ ہم حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو نعوذ باللہ قرآن کریم پر مقدم خیال کرتے ہیں اور قرآن کریم کو محض دکھاوے کے طور پر مانتے ہیں حالانکہ اگر ان کا یہ اعتراض سچا ہے تو پھر ہم بیرونی ممالک میں جا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے کیوں تکلیف اُٹھا رہے ہیں، اگر رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر ہم سچے طور پر ایمان نہیں لاتے تو ہم اسلام کو پھیلانے کے لئے دوسرے ممالک میں کیوں جاتے ہیں ؟۔ہمارا بیرونی ممالک میں اسلام پھیلانا بتاتا ہے کہ ہم اسلام اور محمد رسول اله صل اللہ علی وسلم پر سچا ایمان رکھتے ہیں لیکن بہر حال جب دشمن عداوت میں بڑھ جاتا ہے تو وہ مخالفت میں معقولیت کو نظر اندانہ کہ دیتا ہے۔انہوں نے ہم پر یہ الزام لگایا کہ ہم قرآن کریم کو نہیں مانتے۔اور مرزا صاحب کو محمدرسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم سے افضل سمجھتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس قسم کے عقیدہ کو گھر کا موجب سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھا جائے یا اس کی وحی کو قرآن کریم سے برتر قرار دیا جائے قرآن کریم تو مضامین کا ایک سمندر ہے۔ہماری ساری تمدنی ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری