تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 133
١٣٣ عقد فصل دوم حضرت مصلح موجود کو ہمیشہ یہ فکر دامنگیر تم نبوت مین خلق ایک نہایت اہم خو رہتا تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے افراد صحیح اسلامی عقائد سے باخبر ہیں تا غلط فہمیاں دور ہوں اور اُمت مسلمہ ایک مضبوط قلعہ بن کر اپنی پوری قوت غیر مسلم دنیا کومسلمان بنانے پر مرکوز کر دے۔یہی وہ روح اور پاک جذبہ تھا جس کی بناء پر حضور نے ہر نومیر ۱۹۵۵ء کو مسئلہ ختم نبوت پر ایک اچھوتے رنگ میں روشنی ڈالی اور بڑے واضح لفظوں میں یہ حقیقت پیش کی کہ قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کے الہامات دونوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔لہذا کسی احمدی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کر سکے۔حضور کے اس پر از علم و عرفان خطیہ کے بعض حصے درج ذیل کئے جاتے ہیں :- قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاں اور بہت سے نام آئے ہیں وہاں آپ کا ایک نام خاتم النبیین بھی آیا ہے ، اور گو خاتم النبیین کی مختلف تاویلیں کی جاتی ہیں لیکن لفظ خاتم النبیین پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔اور ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے خاتم النبیی تسلیم کرتے ہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو نہیں " بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں: (اشتہار ۲۳ اکتوبر الماء )۔۔۔۔۔ہم نے متواتہ اس بات پر زور دیا کہ ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جب قرآن کریم میں رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے تو ہم آپ کے خاتم النبیین ہونے سے کیسے انکار کر سکتے ہیں ؟ اگر یہ بات صرف حدیث میں آتی تو ہم حدیثوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں لیکن کہنے والا کہ سکتا تھا که چونکہ یہ بات قرآن کریم میں نہیں آئی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر تم یقی نہیں رکھتے لیکن یہ الفاظ تو قرآن کریم میں آیا ہے پس جو شخص رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کو ختم النبیین