تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 110 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 110

11۔کی فلاح وبہبود کے لئے وقف ہوگی جہاں کہیں بھی ایسے بھائی ہوں گے اُن پر یہ رقم خرچ کی جائے گی۔اور اس ضمن میں ان کی تعلیم وتربیت کے انتظام کو مقدم رکھا جائے گا۔جو نہی جماعت کے نمائندوں کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملے گی کہ آپ لوگوں میں سے ایک خاصی تعداد ایسے احباب کی ہے جو " الوصیت " کی بیان کہ دہ تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں، میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا انتظام کروں گا اس کے قیام کا مقصد یہ ہوگا کہ اس سکیم کے تحت اولین قبرستان کے لئے جگہ منتخب کی جائے اور اس سکیم پر عمل درآمد کے لئے ضروری اور ابتدائی انتظامات کئے جائیں اور اس امر کا اہتمام کیا جائے کہ اس سکیم اور اس کے مقاصد کو موثر طریق پر ہمیشہ کے لئے جاری رکھا جاسکے۔ہر وہ شخص جو وصیت کرے گا یا اس سکیم کے قواعد کے ہمو جب کم سے کم شرح کے مطابق چندہ دینے کا وعدہ کرے گا وہ اس شرط پر کہ اس کی وصیت پوری ہو جائے یا حسب قواعد چندہ جات کی ادائیگی عمل میں آجائے۔دونوں صورتوں میں اس بات کا حقدار ہو گا کہ ایسے قبرستانوں میں سے کسی ایک قبرستان میں دفن کیا جائے جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس مرض کے لئے قائم ہو جائیں گے۔اور اس صورت میں کہ اس کی موت ہندوستان میں واقع ہو تو وہ قادیان کے قبرستان میں یا اگر پاکستان میں ہو تو ربوہ کے قبرستان میں دفن ہو سکے گا۔لیکن یہ ضروری ہوگا کہ اس کی نعش ان قبرستانوں میں سے کسی ایک قبرستان تک پہنچانے کے اخراجات اس کے اپنے ترکہ یا جائیداد سے پورے کئے جائیں۔اور اس کی راہ میں کوئی قانونی یا کوئی اور رکاوٹ حائل نہ ہو۔وصیت یا چندہ جات کے وعدے کے ضمن میں جو تحریر لکھی جائے گی اس میں یہ صراحت کی جائے گی کہ اس شرط کے پورا نہ ہو سکنے کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وصیت کو نا جائز یا خلاف قاعدہ قرار دیا جا سکے گا یا اس کے جائز یا قانونی حیثیت پر کوئی حرف آسکے گا یا ادا کردہ چندوں کے بارے میں کسی مطالبہ یا دعوئی کا جوانہ پیدا ہو سکے گا۔صدر انجمن ایسے تمام اشخاص کے نام جنہوں نے اس سکیم میں شامل ہونے کے بعد اس کی تمام شرائط کو پورا کر دیا ہوگا، قادیان یا ربوہ کے قبرستانوں میں مناسب جگہ پر کنندہ