تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 98 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 98

٩٠ اسی ندی کے کنارے پہنچا۔رفع حاجت کے بعد نمانہ ادا کی اتنے میں آفتاب نے آنکھ دکھائی واپس آبادی کے پیچ و بیچ معلومات حاصل کرتا یہ مکان کیلئے نہ مین کون دیتا ہے کسی تریخ پر ملتی ہے لب لباب میری تحقیقات کا یہ نکلا کہ ایک پورے نظام کے ماتحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔میں اپنی آرام گاہ پر پہنچا وہاں میری انتظار چائے کے لئے تھی۔چائے سے فارغ ہوا کپڑے بدلے اور منتظم کو عرض کیا کہ میں جماعت کے دفتروں کو دیکھ سکتا ہوں انہوں نے جواب دیا کیوں نہیں ان کے ساتھ ہو لیا دختر کیا تھے ایک سیکرٹریٹ جیسے چند دن پہلے یہاں صوبہ سرحد کا سیکرٹریٹ تھا۔یکی ایک ایک دفتر میں گیا اور دیکھا بابو لوگ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس سارے سیکرٹریٹ کے انچارج مرزا عزیز احمد ہیں جو ڈپٹی کمشنر رٹائرڈ ہیں۔پھر پھرا کر مجھے امور عامہ کے دفتر لے جایا گیا۔میں نے دروازہ پر بورڈ پڑھا۔اندر جانے پر مجھے گریسی پیش کر دی گئی۔میں بیٹھ گیا پانچ منٹ کے بعد میرے لئے چائے آگئی میں نے عرض کی چائے سے فارغ ہو کر آیا ہوں۔دفتر میں بیٹھے ہوئے صاحب بڑی دھیمی آواز میں فرمانے لگے (جی آج کل چائے تو ایک فیشن ہے آجکل چائے تکلیف نہیں دیتی نوش فرمائیے ایک دو بزرگوں کو انہوں نے آواز دی کہ تشریف لاکہ میرے ساتھ چائے میں شریک ہو جائیں۔چائے کے ساتھ ساتھ میں نے دریافت کیا۔کیا آپ اس دفتر کے انچارج ہیں انہوں نے جواب دیا اس دفتر کے انچارج مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم اے ہیں جو سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کو بذات خود دیکھنے گئے ہوئے ہیں لیکں اُن کا اسسٹنٹ ہوں میرا نام خادم حسین ہے اور یکن صوبہ سرحد میں کافی عرصہ گزارہ کہ اب ملازمت سے فارغ ہو کہ یہاں آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہاں رسال پور میں کسی اچھے عہدے پر تھے اور یہی وجہ ہے کہ دفتر کا انتظام خاطر خواہ ہے۔یہ تجربہ کار لوگ ہیں، یکی نے سیلاب کے لئے جو کچھ یہاں ہو رہا ہے پوچھا۔انہوں نے مجھے سٹال دکھایا کپڑوں اور رضائیوں کے انبار لگے ہوئے تھے جو ہیڈ آف جماعت احمدیہ کی آواز پر ان کے معنقد خود بخود لا رہے