تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 84
49 ہوئی ہو کہ اس کی مرضی اور منشاء کے خلاف کوئی ایک قدم اُٹھانا بھی ہمارے لئے ممکن نہ رہے تاکہ ہم محض نام کے اعتبار سے ہی مسلمان نہ کہلائیں بلکہ ہمار اعمل اور ہمارا کردار اس بات کی گواہی دے کہ فی الواقعہ ہم اس نام کے مستحق ہیں ہمارا اُٹھنا اور ہمارا بیٹھنا، ہمارا چلنا اور ہمارا پھرنا الغرض ہماری ہر حرکت اور ہمارا ہر سکون اس نام کے شایانِ شان ہو۔تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا۔چونکہ خدا تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم کے ذریعہ دنیا میں ایسی امت پیدا کرنا چاہتا تھا کہ جو اسم با مسمی ہو اور جس کا عمل و کردار اپنے لقب یعنی لفظ "مسلم" کے شایانِ شان ہو۔اس لئے اس نے اس اُمت کو روحانی ترقی کے وہ وہ سامان اور مواقع عطا فرمائے جو اس سے پہلے کسی اُمت کو میسر نہ تھے چنانچہ نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ نے کامل ترین شریعت نازل فرمائی بلکہ اسے ہمیشہ ہمیش کے لئے محفوظ رکھنے اور اس کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کا سامان بھی بہم پہنچا دیا۔دوران تقریر اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ خدا نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ کی عظیم الشان طریق پر پورا فرمایا حضور نے بعض یورپین مصنفین اور دیگر معاندین اسلام کا یہ اعتراف بھی پیش کیا کہ فی الواقعہ قرآن جن الفاظ میں نازل ہوا تھا بجنسہ انہی الفاظ میں آج تک محفوظ ہے۔نیز حضور نے قرآن اور انجیل کا موازنہ کرتے ہوئے ان تحریفات پر بھی کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالی جو انجیل میں ہوتی چلی آرہی ہیں اور جن کا سلسلہ اب تک بدستور جاری ہے حتی کہ بعض مستشرقین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ کاش وہ تخیل کے متعلق بھی یہ دعوای کر سکتے کہ وہ قرآن کی طرح تحریف اور ردو بدل سے مبرا ہے۔اس ضمن میں حضور نے ایک اعتراض کا رہ ذکرتے ہوئے فرمایا۔اس میں شک نہیں مسلمانوں میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو غلطی سے بعض آیات کو منسوخ مانتے ہیں لیکن مسلمانوں کا کوئی ایک فرقہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو یہ مانتا ہو کہ قرآن مجید میں نعوذ باللہ بعض آیات بعد میں داخل کی گئی ہیں اس امر پر سب متفق ہیں کہ قرآن اول سے آخر تک اسی طرح محفوظ چلا آرہا ہے جس طرح کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔