تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 55
نہیں۔۵۳ نپولین کا قول ہے کہ ناممکن کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے۔اس کے یہی معنی تھے کہ نپولین کسی کام کونا ممکن نہیں سمجھتا تھا ہاں وہ اسے مشکل ضرور سمجھتا تھا اور پھر ہمت سے اُس کام کو سر انجام دیتا تھا۔دنیا میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں کہ وہ اپنی اولو العزمی سے سامانوں کے مفقود ہونے کے با وجود کامیابی کار استهہ نکال لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت مسلمانوں پر جو غفلت اور جمود کی حالت طاری تھی اس کو بیداری سے بدلنا ناممک سمجھا جاتا تھا لیکن آپ نے مسلمانوں کے اندر امید کی کرن پیدا کر دی اور انہیں بیدار کر دیا۔یورین مصنفین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے پہلے کے ہندوستانی مسلمان لیڈروں یعنی سرسید احمد خاں، امیر علی وغیرہ کو اپالوجسٹ (APOLOGIST) یعنی معذرت کرنے والے قرار دیتے تھے لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا طریق اسلام کی طرف سے معذرت خواہانہ نہیں بلکہ جارحانہ حملے کا طریق ہے۔ابھی ایک مشہور مغربی مصنف نے تحریک احمدیت کا ذکر اسی انداز میں کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ مستقبل کے متعلق ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جہاں پر مؤرخ کو خاموش ہونا پڑتا ہے۔تحریک احمدیت کے مستقبل کے ذکر میں اُس نے لکھا ہے کہ بہت سے گھوڑے جو گھوڑ دوڑ کی ابتداء میں کمزور نظر آتے ہیں وہی بسا اوقات اوّل نکلتے ہیں حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت مذہبی دنیا میں جو تغیرات پیدا ہوئے ہیں اور مسلمانوں میں جس قدر بیداری نظر آتی ہے وہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے نتیجہ میں ہے۔اب مسلمانوں میں سے ننانو سے فیصدی لوگ وفات مسیح علیہ السلام کو ماننے لگ گئے ہیں قیصمت انبیاء کو ماننے لگ گئے ہیں اعدم نسخ قرآن کے نظریے کو بھی ننانوے فیصدی لوگ ماننے لگ گئے ہیں حالانکہ گزشتہ بارہ سو سال میں علمائے اسلام قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کا عقیدہ رکھتے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت لطیف رنگ میں انہی آیات سے بہت سی حکمتیں بیان فرمائیں جنہیں لوگ منشوخ سمجھتے تھے۔اس طرح مسئلہ نیخ قرآن کی بنیاد کو آپ نے توڑ کر رکھ دیا۔تمام وہ مسائل جو باقی دنیا اور مسلمانوں کے لئے مشکوک بلکہ مخالفانہ طور پر تسلیم کئے جاتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کو بدل دیا۔پس ناممکن بات کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔جب ہم قادیان سے نکلے ہیں تو خود جماعت کا ایک بڑا حصہ کہنا تھا کہ اب ہمارے پاؤں کسی طرح جمیں گے لیکن دیکھ لو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ہمارا بجٹ پہلے