تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 54 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 54

۵۲ کا کوئی حصہ نہیں بلکہ ان کے نزدیک دنیا سے بے تو جہ رہنا نہ ہی آدمی کے لئے ضروری ہے جیسا کہ بدھوں کا خیال ہے یا عیسائیوں کے بعض فرقے سمجھتے ہیں۔بعض لوگ دُنیا کو صرف دنیا کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو ہی اپنا منتہائے مقصود سمجھتے ہیں بعض ایسے لوگ بھی ہیں کہ وہ کائنات عالم پر غور کرتے ہیں اور بعض ایجادات بھی ایجاد کرتے ہیں لیکن ان کے مذہب نے انہیں اس بارے میں کوئی ہدایت نہیں کی ان کے مذہب اس پہلو سے سراسر خاموش ہیں۔انہوں نے یہ طریق اپنے لئے از خود ایجاد کر لیا ہے لیکن قرآن کریم تو مسلمانوں کو نہ صرف کائنات عالم پر غور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے بلکہ وہ اس کام کو مذہب کا ایک حصہ قرار دیتا ہے اور اس کوشش کے نتیجہ میں ثواب اور روحانی بدلے کی اُمید ولاتا ہے۔اگر مسلمان اس پہلو سے غفلت اور شستی کریں تو وہ صریح طور پر قرآن کریم کے احکام سے منہ پھیرنے والے قرار پائیں گے۔جو لوگ صحیح طور پر کائنات عالم پر غور کرنے والے ہیں وہ بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔میں نے بہت سے سائنسدانوں کے حالات پڑھتے ہیں وہ بڑے انہماک سے بارہ بارہ گھنٹے تک کام کرتے ہیں اور پھر شاندار نتائج پیدا کرتے ہیں لیکن مسلمان بالعموم پانچ چھے گھنٹے کے کام کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اسی لئے اپنے کام کی رپورٹ کرنے اور ڈائری لکھنے سے گھبراتے ہیں تبلیغی کام کرنے والے اور ریسرچ میں کام کرنے والے اگر اپنے کام کی ڈائری لکھیں تو اس سے انہیں صحیح طور پر حساس ہو جائے کہ انہیں اتنا کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے کتنا کیا ہے۔سُست لوگ اس بارے میں یہ مذر کیا کرتے ہیں کہ ہم نے کام کرنا ہے یا ڈائری لکھنا ہے۔ڈائری لکھنے اور رپورٹ کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے۔یہ عذر در حقیقت نفس کا دھو کہ ہوتا ہے۔ڈائری وہی لکھ سکتا ہے جو صحیح طور پر کام کرتا ہے اور جو شخص کام نہیں کرتا وہ ڈائری لکھنے سے گریز کرتا ہے۔ہمارا دنیا سے بہت بڑا مقابلہ ہے۔ہماری یہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دنیا کی لیبارٹریوں اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹوں کے مقابلہ میں بلحاظ اپنے سامان اور کارکنوں کے کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن یاد رکھنا چاہئیے کہ اصل کام یہ ہے کہ انسان میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی روح پیدا ہو جائے اور یہ روح محنت اور ایثار سے پیدا ہوتی ہے۔جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہم نے بہت بڑے دشمن سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمار سے اندر کام کرنے کی روح بڑھے جائے گی۔ہمارے اس مقابلہ کی بنیا د روپے پر نہیں ہے۔دنیا کے مقابلہ میں ہمارے پاس روپیہ ہے ہی