تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 633
چکا تھا۔میں نے محسوس کیا کہ کوئی چیز طاقت کے ساتھ میری گردن سے ٹکرائی ہے اس سے قبل میں نے کسی قسم کا نعرہ نہیں سنا تھا۔میں نے چوٹ کھانے کے بعد دوران سر محسوس کیا اور جب میں کچھ سنبھلا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھے سہارا دیئے ہوئے تھا۔اس دوران سر کی حالت میں مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ جو شخص مجھے سہارا دیئے ہوئے تھا اس کے کان پر زخم لگا ہے۔زخم لگنے کے بعد غیر ارادی طور پر میں نے اپنا ہا تھے اس جگہ پر رکھا جہاں ضرب لگی تھی۔اس شخص نے جو کہ مجھے سنبھالے ہوئے تھا غالباً اس خیال سے کہ شائد میں اپنے تقسیم۔پر پورا قابو پا چکا ہوں مجھے چھوڑ دیا لیکن میں ضرب کے دھکے سے آگے کو گر گیا۔تب دوسرے افراد میری مدد کو آئے اور مجھے دروازے کے باہر لائے۔ضرب کے بعد میں نے دوران سر محسوس کیا اور چونکہ میں بوجہ دوران سر پوری طرح سمجھ نہیں سکا تھا کہ کیا ہوا ہے اس لیے یکیں نے وہاں موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔تب مجھے دویا تین افراد نے بتایا کہ مجھ پر چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔اُس وقت میں نے اپنا وہ ہاتھ ہٹا لیا جو میں نے اس جگہ پر رکھا ہوا تھا جہاں ضرب لگی تھی۔جب میں نے ہاتھے کی طرف دیکھا تو وہ خون آلود تھا۔ان لوگوں نے میری توجہ میرے کپڑوں کی طرف بھی مبذول کرائی۔میں نے دیکھا کہ میرے کپڑے بھی خون میں لت پت تھے۔میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے میرے گھر لے چلیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔مرزا منور احمد مقامی ایم او آن این اے سی ربوہ نے میرے نہ خم کا معاینہ کیا۔انہوں نے میرے زخم کو ٹانکے لگا دیئے تقریباً گیارہ بجے رات ڈاکٹر ریاض قدیم لاہور سے آگئے اور ٹانکہ شدہ زخم کے معاینہ کے بعد انہوں نے ٹانگوں پر اطمینان کا اظہار نہ کیا اور انہوں نے کہا کہ زخم کے اندر سے نعون بہ رہا ہے۔انہوں نے زخم کو کھولا اور اس کو دوبارہ ٹانکے لگائے۔ٹانکے آٹھ دن بعد کھول دیئے گئے اور ۱۲ یا ۱۳ دن کے بعد ٹیوب کو الگ کر دیا گیا اور زخم قریباً ۱۸ دن کے بعد مندمل ہو گیا۔xx Nil × × N بذریعہ عدالت۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے ملزم عبدالحمید کو جو کہ اس وقت عدالت میں موجود !