تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 590
۵۶۴ اس کے بعد حضور نے مغرب میں تبلیغ اسلام کے موضوع پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا اور بتایا کہ کس طرح ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی سچائی اثر کرتی چلی جا رہی ہے اور وہ قرآنی تعلیم کی افضلیت اور اس کی برتری کے قائل ہوتے جا رہے ہیں حضور نے جماعت کو مسلسل قربانیوں کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :- اگر کسی سلسلہ کا صرف ایک فرد پر انحصار ہو تو آج نہیں تو کل وہ سلسلہ ختم ہو جائیگا۔لیکن اگر جماعت کا ہر فرد اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کرے اور وہ اور اس کی اولا د اسلام کی اشاعت کے لئے مسلسل کوشش کرتی چلی جائے تو ایک لمبے عرصے تک یہ سلسلہ مند ہو سکتا ہے اور بہت جلد اسلام دنیا پر غالب آ سکتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ ابتدا میں ترقی ہمیشہ آہستگی کے ساتھ ہوتی ہے۔لیکن الہی سنت یہ ہے کہ کچھ وقفہ کے بعد بڑے زور کے ساتھ بند ٹوٹتا ہے اور لاکھوں لاکھ لوگ سچے مذہب میں شامل ہونا شروع ہو جاتے ہیں پس اپنی جد وجہد کو جاری رکھو۔اور اس دن کا انتظار کرو جب خدائی نصرت اور اس کی مدد کا وقت آجائے گا۔اگر ہماری بیانات نے قربانی کی اس سیرٹ کو قائم رکھا تو جب کامیابی کا وقت آئے گا۔تو وہ لوگ جو ہمت ہار کر بیٹھ چکے ہوں گے۔حسرت کریں گے کہ کاش ہم ہمت نہ ہارتے اور ہم بھی اس فتح میں شریک ہوجاتے۔خطبات جمعہ میں تبلیغ اسلام کیلئے خصوصی تحریک قیام کراچی کے دوران حضور انور نے احمدیہ ہال میں تین خطبات ارشاد فرمائے اور تینوں میں ہی مغربی ممالک کے اندر تبلیغ اسلام کی مہم کو تیز تر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔پہلا خطبہ (و ستمبر) زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُن پیشگوئیوں سے متعلق تھا جو حضور کے اس سفر یورپ کے تعلق میں اشاعت اسلام کے بارہ میں تھیں حضور نے خطبہ میں فرمایا کہ آب مغربی ممالک میں اسلام کی طرف واضح رجحانات پیدا ہو رہے ہیں فصل تیار ہو رہی ہے اب صرف فصل کاٹنے والوں کی ضرورت ہے کیے (۲)۔دوسرے خطیہ (4 ار ستمبر) میں بھی حضور نے مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے وقف کی پر زور تحریک فرمائی اور جماعت کو اس سلسلے میں انتہائی جدوجہد کی تلقین کی اور ان جوانوں کے لئے برکت کی ہے۔روزنامہ المفضل بریوه استمبر ا م : له روزنامه الفضل" ربوه ٣ استمر له من