تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 587 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 587

۵۶۱ اور آج جب کہ حضور اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفایابی حاصل کر کے واپس پاکستان تشریف لائے ہیں بساری جماعت کے دل اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لا رہے ہیں۔اور ہم تمام جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حضور کے اس قدوم میمنت لزوم پر خوشی و مسرت کے لئے کراچی میں حاضر ہوئے ہیں۔(۳) سید نا ! جماعت نے سر ہر مرحلہ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار تائیدات کے نشانات مشاہدہ کئے ہیں اور اللہ تعالی کی زمیہ دست نصرت و حمایت کو حضور اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزنیہ کے لئے کار فرما دیکھا ہے اب اس بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشانات و معجزات مشاہدہ کئے ہیں جس سے جماعت کے دلوں میں ازدیاد ایمان ویقین کی ایک تازہ لہر دوڑ گئی ہے اللہ تعالے نے عاجز بندوں کی دعاؤں اور ان کی زار می کوشن کہ ایسے سامان پیدا فرمائے کہ حضور کے مرض کی صحیح تشخیص ہو کہ صحیح طور پر علاج ہو سکا۔اور خدائے ارحم الراحمین نے اپنے غیر معمولی فصل سے حضور کو صحت و شفا بخشی وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الشافي الكافي۔(لم) سید نا حضور نے اسلام اور جماعت کے لئے جو ان تھک محنت کی ہے اور جس طرح دن رات اس راہ میں اپنے آپ کو قربان کیا ہے جماعت کو اس کا کچھ کچھ اندازہ ہے اب ڈاکٹری مشورہ کے مطابق حضور کو کافی آرام کرنے کی ضرورت ہے ہم حضور کے قدام نہایت ادب سے درخواست کرتے ہیں کہ حضور ڈاکٹری مشورہ کے مطابق پوری طرح آرام فرما ئیں سب جماعتیں حضور کی گراں مایہ صحت کے پیش نظر اقرار کرتی ہیں کہ اپنے جذبات کو ایک حد تک دیا کر بھی حضور کے آرام کے لئے ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد حضور کو کامل صحت عطا فرمائے اور صحت وعافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور حضور کے عہد مبارک میں اسلام کو بیش از بیش ترقی و نفوذ عطا فرمائے اور جماعت کو حضور کی زیر ہدایت پورے جوش اور پورے خلوص سے کام کرنے کی توفیق بخشے۔آمین ثم آمین ه سید تا با حضور کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کی بشارت کے ماتحت ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت سے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ اپنے پیارے اور مقرب بندوں کا ہر آن حامی و محافظ ہے۔احادیث نبویہ میں دمشق میں نزول مسیح کے ساتھ دو زرد چادروں کا بھی ذکر ہے بے شک حضور کے ۱۹۲۳ء کے سفر دمشق سے یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے مگر واقعات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی شه واو کے سفر میں زیادہ نمایاں طور پر اور پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔