تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 550
۵۲۴ اسے سزا دینی چاہئیے وگرنہ کل وہ پھر شرارت کرے گی لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تو مالک ہیں دنیوی حکومتیں اس لئے مجبور ہیں کہ اول تو وہ مالک نہیں دوسرے انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ کل کو کیا ہو جائے گا۔اگر آج عفو کر دیا تو ممکن ہے کل شرارت ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم مالک ہیں آج کے دن کے بھی اور جب کل آئے گا تو ہم مالک نہیں کل کے دن کے بھی ہمیں یہ ڈر نہیں کہ کل کو یہ لوگ اپنی شرارت میں کامیاب ہو جائیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں سے فرمایا کہ لا تقریب عَلَيْكُمُ الْيَوْم ظاہری عقل نے کہا کہ آپ نے بڑی تا دانی کی وہ قوم جو تیرہ سال سے تکالیف دے رہی تھی اور جس کی شرارتیں متواتر چلی آرہی تھیں آج وہ اتفاقاً قابو میں آگئی ہے اور یہ اسے معاف کر رہے ہیں کل کو اگر پھر انہوں نے شرارت کی تو پھر کیا ہو گا چنانچہ عملی نمونہ بھی خدا تعالیٰ نے دکھلا دیا لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہلانے والا بھی مالک تھا اس لئے جو خرابیاں اس کے نتیجے میں عقلی طور پر پیدا ہو سکتیں تھیں وہ بھی پیدا ہوئیں تو مالک یوم الدین میں بتایا کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے جس سے حمد حاصل ہوتی ہے اگر کوئی حکومت مالك يوم الدين بھی کر رہے جس طرح خدا تعالى مالك يوم الدين بن کر حکومت کرتا ہے تو پھر عوام الناس میں اور پبلک میں اور ارد گرد کے لوگوں میں بعض کبھی پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ تعریف ہی ہوتی ہے کہ بڑے اچھے ہیں تو فرماتا ہے کہ الحمد حاصل ہوتی ہے۔مالك يوم الدین سے جو مالک یوم الدین نہیں اُسے الْحَمْدُ نہیں ملتی جورت العالمين نہیں اسے الحمد نہیں ملتی ہو رحمن نہیں اُسے الحمد نہیں ملتی۔جو رحیم نہیں اُسے الحمید نہیں ملتی۔الحمد تبھی ملتی ہے جب کہ وہ رب العالمین کی صنعت کا مظہر ہو۔رحمانیت کا مظہر ہو۔رحیمیت کا مظہر ہو اور مالك ليوم السد تین کا مظہر ہویے بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ چودھواں پیغام مورخ ۲۲ مئی و انحمده ونصلى على رَسُولِهِ الكريم ، وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْد۔۱۹۵۵ موال خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ امیر ه روزنامه " الفضل " ریوه ۳۰ جون ۶۱۹۵۵ مرمت۔