تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 544
يله تعریف اُسی وقت ہوتی ہے جب الحمد للہ پر عمل کیا جائے سورہ فاتحہ میں تمام گر بیان کئے گئے ہیں ، سب سے پہلا موٹا کر یہ بیان کیا ہے کہ خدمت خلق کہو اور بلا غرض اور بلا ذاتی فائدہ کی خواہش کے خدمت کرو۔اگر ایسا کرو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف کرے گا لیکن اگر کوئی صرف ایک طبقہ کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو وہی طبقہ اس کی تعریف کرے گا۔مثلاً کوئی حکومت لیسر کو اٹھاتی ہے۔۔تو لیبر ہی اس کی تعریف کریں گے بڑے اور درمیانہ درجہ کے نہیں کریں گے اور اگر کوئی حکومت درمیانہ اور بڑے درجہ کو اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ طبقے ہی تعریف کریں گے لیبر نہیں کریں گے کیونکہ وہ حکومت رب العالمین نہیں بلکہ فرقہ کی اور جماعت کی ربّ ہے حقیقی حکومت وہی ہے جو تمام طبقوں کو بلکہ قوم کو بھی بھلا دے کیا اس تعلیم پر عمل کرنے کے بعد دنیا میں امن کے مٹنے کا شائبہ بھی ہو سکتا ہے ؟ اور کیا کوئی ایسی قوم کا دشمن بھی ہو سکتا ہے ؟ دوسرے وجوہ سے دشمن ہو جائے تو ممکن ہے لیکن اس فعل کی وجہ سے دشمن نہیں ہو سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا۔لیکن پھر بھی بعض لوگ آپ کے دشمن ہیں۔مگر اس وجہ سے نہیں کہ آپ نے غریبوں کو کیوں اونچا کیا بلکہ مذہبی تعصب کی وجہ سے اس لئے کہ آپ نے نماز روزہ حج اور زکواۃ کی کیوں تعلیم دی۔اسی طرح اگر آج لوگ احمدیت کے دشمن ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ احمدی نیتیموں کی پرورش کرتے ہیں غریبوں کی امداد کرتے ہیں اور بیواؤں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور خدام الاحمدیہ سر ایک کی مدد کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام نے مسیح موعود ہونے کا دعونی کیا ایسا مخالف شقی القلب ہے جس کا کوئی علاج نہیں رہے - - خطبہ جمعہ ۲۷ مئی ۱۹۵۵ء) میں نے پچھلے خطے میں بیان کیا تھا کہ مجھے رویا میں بنایا گیا کہ سورۃ فاتح میں دنیا کے امن اور کمیونزم اور کیپیٹلزم کے جھگڑے کے استیصال کے گر بتائے گئے ہیں اور مکی نے سب سے پہلے سورہ فاتحہ کی پہلی آیت الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينِ الرَّحْمَنِ الرحيم سے ایک نسخہ بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جو الحَمدُ کہا گیا ہے تو وجہ بھی بیان کی ہے کہ وہ رب العالمین ہے جب تک کوئی شخص رب العالمین نہ ہو۔چاہے اپنی پارٹی کے ساتھ وہ کتنا ہی اچھا سلوک کیوں نہ کرتا ہو وہ الحمد کا مستحق نہیں ہو سکتا۔الحمد لے - روزنامه الفضل "ریوه ۳۱ مئی ۲۰۶۱۹۵۵