تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 529
۵۰۳ پہنچے جہاں دوسرے دوست پہلے ہی پہنچ چکے تھے کاروں کا انتظام کیا گیا اور سات بجے سے قبل ہوائی اڈہ پر جا پہنچے۔سید منیر الحسنی صاحب ، چوہدری مشتاق احمد صاحب یا جوہ اور ایک اور دوست جنہیں طیارہ کی سیڑھی کے دروازے پر جانے کی اجازت تھی آگے بڑھے۔حضور تشریف لائے اور شرف معالم سختا، پھر حضور اپنے احباب کے اجتماع میں سہارا لئے ہوئے پولیس کے دفتر میں جہاں پاسپورٹ وغیرہ چیک کئے جاتے ہیں تشریف فرما ہو گئے اور استاذ منیر الحصنی پاس ہی کھڑے ہو کر باری باری احباب کا تعارف کرواتے گئے۔حضرت سیدہ امر امتہ المتین صاحبہ ، حضرت سیده مهر آیا صاحبہ، صاحبزادی امة الجمیل اور صاحبزادی امتہ المنین کے استقبال کے لئے المحارج بدر الدین المحصنی کے خاندان کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں۔انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور اپنے قابل احترام جہانوں کو لے کو بلا تاخیر گھر کو روانہ ہوگئیں۔تھوڑی دیر کے بعد جب پاسپورٹ چیک ہو گئے تو حضور بھی اپنے خدام کے ہمراہ المحارج بدر الدین صاحب کے مکان کو روانہ ہو گئے اور چند میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے میزبان کے مکان پر پہنچ گئے۔حضور کا قیام بالا خانہ پر ہوا جو نہایت صاف ستھرا آرام دہ تھا اور اپنے آقا کے قدموں تلے آنکھیں سمجھانے والے حصنی خاندان کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا الحاج بدالدین صاحب کا ریشمی کپڑے کا کارخانہ ہے آپ ہمارے دمشق کے مبلغ انچارچ السید منیر الحصنی کے چھوٹے بھائی ہیں۔حضور تھوڑی دیر ڈرائنگ روم میں بیٹھے اور پھر اندر آرام فرمانے کے لئے تشریف لے گئے۔حضور قریبا سات روز تک وشق میں رونق افروز رہے۔دوران قیام کے بعض کو ائف بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔۳۰ اپریل ۱۹۵۵ ۶: حضور نماز ظہر کے لئے تشریف لائے اور سفر کی تکان کے باوجود مشق کے مخلص احمدیوں کے طبعی اشتیاق کے پیش نظر مجلس میں تقریبا دو گھنٹے تشریف فرمار ہے اور مختلف امور پر اظہار خیال فرماتے رہے۔یکم مئی ۱۹۵۵ ۶: دو پہر کو کھانے سے قبل دمشق سے تین چار میل کے فاصلہ پر ایک باغ المنشية " مع اہل بیت تشریف لے گئے۔صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب۔چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب رسید منیر الحصنی صاحب اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کو بھی شرف معیت حاصل ہوا۔اس بات میں بہنے والی نہر کے کنارے کے ساتھ نشست گاہیں بنی ہوئی تھیں۔