تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 519
سے پاک ہو کہ خیرو برکت کا گہوارہ بن جائے۔آمین ثم آمین ریوه ہم ہیں حضور کے ادنی ترین خادم بنگالی اہالیان مقیم ریوہ فرمایا : ۲۲ اپریل ۱۹۵۵ء کا خطبہ جمعہ آج رات مجھے شدید تکلیف تھی۔ہاتھ کی مٹھی تک بند نہ ہوتی تھی اور سر بھی خالی خالی محسوس ہوتا تھا۔جس وقت ذرا آرام آیا تو خواہش ہوئی کہ تذکرہ جو حضرت صاحب کے الہامات کا مجموعہ ہے اسے پڑھوں میں نے اسے یونہی کھولا اور کسی خاص انداز سے کے بغیر ایک جگہ سے پڑھنا شروع کیا تو میری بیماری اور میرے شام کی طرف سفر کرنے کا بھی اس میں ذکر تھا۔اسی طرح بنی اسرائیل کے آخری زمانہ میں انگریزوں کی مدد سے فلسطین میں داخل ہونے کا بھی ذکر تھا۔ان الہامات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہود کا اس علاقہ میں آنا مسلمانوں اور خصوصا عربوں کے لئے سخت نقصان دہ ہوگا۔مگر یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالے ان خطرناک نتائج کو کچھ عرصہ کے لئے ٹلا دیگا اور پھر اللہ تعالیٰ کی فتح اور نصرت آنی شروع ہو گی۔پھر یہ بھی دیکھا کہ اللہ تعالے احمدیت کے پاؤں عرب ممالک میں حمادے گا۔گو وہاں مبشرات کے ساتھ منذرات کا بھی ذکر ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ منذرات کے پہلوؤں کو کم کر دے اور مبشرات کو بڑھا دے تو کوئی تعجب نہیں کہ ہمارا وہاں جانا اسلام احمدیت اور عربوں کے لئے مفید ہو مگر چونکہ حضرت صاحب کے الہامات میں منذرات کا بھی ذکر ہے اس لئے دوستوں کو دکھا ئیں بھی کرنی چاہئیں۔اسے ۲۷ را پریل کو حضور نے کراچی سے حسب ذیل گیارھواں پیغام مورخہ ۲۷ را بریلی شده پیغام ارسال فرمایا :- بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ هوا اب خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ برادران ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔نَحْمَدُهُ وَنَصَلَ عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ سامير ه روزنامه " الفضل" ربوه مرمتی ۱۹۵۵ء مث کے روزنامہ " الفضل " ریوه ۲۷ اپریل ۱۹۵۵ء ها