تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 516
۴۹۴ خدمت اسلام کے دلولہ جس کسی کی بھی زبان سے ادا ہوں۔بہر مالی باعث مسرت و موجب شکر ہی ہوتے ہیں۔یہ مسرت بدرجہا زاید ہوتی اگر یہ الفاظ اہل سنت کے کسی عالم کی زبان - ޖ یورپ کی روانگی کے وقت ادا ہوتے " صدق جدید ۱۰ جون ۹۵۵ ونه انہی دنوں حضور کو بنگال سے بعض نام نہاد احمد یو بنگالی احمدیوں کے نام خصوصی پیغام کی نسبت افسوسناک اطلاعات تھیں جس پر حضور پہنچیں نے جماعت احمدیہ مشرقی پاکستان کے نام حسب ذیل خصوصی پیغام دیا :- هُوَ النَّ بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ سامير میرے بنگالی کے احمدی بھائیو ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته۔جب کسی قوم کے افراد اختلافات کو ہوا دینا شروع کر دیتے ہیں تو وہ انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں اور اُن کا کردار پست ہو کر رہ جاتا ہے چنانچہ دیکھ لو جب مسلمانوں کے دل متحد نہ رہے تو دنیا بھر میں اُن کا وقار زائل ہو گیا بالآخر ۱۳۰ سال کے ادبار کے بعد خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو بھیجا اور چاہا کہ مسلمان پھر ان کے ذریعے متحد ہو جائیں۔مجھے حال ہی میں ایک رپورٹ ملی ہے کہ (لوگ) اس خیال کو ہوا دے رہے ہیں کہ چونکہ خلیفہ غلطی کو سکتا ہے اس لئے اس کی اطاعت حکم کا درجہ نہیں رکھتی۔۔۔۔۔مذکورہ بالا خیال اگر چہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے لیکن یہی خیال تھا جو گذشتہ زمانہ میں بالآخر مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنا۔بظا ہر سادہ نظر آنے والے یہی اصول تمہاری جماعت کو بھی تباہ کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔پس ان حالات میں سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ میں یہ اعلان کروں کہ میں ہر سچے احمدی سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ ان لوگولی کو میرا پیرو نہ سمجھے بلکہ انہیں آزاد اور میرے منصب کا باغی تصویر کرے، اگر یہ لوگ حق پر ہیں تو انہیں اس اعلان پر خوش ہونا چاہیے اور جو غلطی میں نے کی ہے اور جس چیز کو میں نے تباہ کیا ہے انہیں اس کی اصلاح اور اس کی تعمیر کے لئے کمر بستہ ہو جانا چاہیئے اور اپنے ایمان اور اپنے عمل کی فوقیت ظاہر کرنی چاہیئے۔الے بحوالہ روز نامه " الفضل " ربوه ۲۵ جون ۱۹۵۵ء ص۳