تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 488 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 488

طرح صحت مند ہو جاؤں گا۔میں نے اس سے کہا کہ تفکرات کو بھلا دینے کی تلقین تو آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔لیکن اس نے اصرار کیا کہ ایسا کرنا ہی پڑے گا۔اور اس کے آغاز کے طور پر مجھے تمام ملاقاتیں وغیرہ بند کر دینی چاہئیں اور اپنے دوستوں اور احباب سے دور کہیں باہر چلا جانا چاہیئے۔میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ میں اس کی ہدایت کے مطابق ایسا کرنے کی پوری کوشش کروں گا لیکن اپنے اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے احباب کی دعاؤں اور ان کی مدد کی ضرورت ہے۔خدا ہمارا حامی وناصر ہو جس طرح کہ وہ پہلے بھی ہماری نصرت فرماتا رہا ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کہ اس کی مدرد ہمارے شامل حال رہے ! آمین خلیفة أسبح ) حضور نے اپنے پہلے سفر یورپ کے دوران حضرت قائم مقام امیر اور ناظر علی النقر و مولانا شیر علی صاحب بی۔اے کو امیر مقامی مقرر فرمایا تھا۔اس سفر میں یہ سعادت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے حصہ میں آئی چنانچہ حضور نے روانگی سے قبل اعلان فرمایا کہ میں چونکہ بیماری کے علاج کے لئے یورپ جا رہا ہوں اس لئے میری غیر حاضری میں قائمقام امیر مرزا بشیر احمد صاحب اور ناظر اعلیٰ اختر صاحب رمیاں غلام محمد صاحب اختر) ہوں گے تحریک اور صدر انجمن کے تعاون اور صحیح کام کے لئے میں نے کچھ ہدایات دیدی ہیں میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ کہیں نے جو نئے ناظر اعلیٰ اور مقامی امیر مقر کئے ہیں ان کی بھی تمام افسر اطاعت کریں گے۔اور اُن سے تعاون کریں گے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تا احکام ثانی صدر انجمین احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تمام کاموں میں صدر انجمن کا حکم آخری ہو گا۔اور تحریک جدید سے متعلقہ تمام کاموں میں تحریک جدید کا فیصلہ آخری سمجھا جائے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ ہر ایک افسر اور ہر ایک انجمن بغیر جنبہ داری اور بغیر رعایت کے اور بغیر دوستی کے خیال کے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرے گی ، قادیان سے تعلق رکھنے والے سب امور میں صدر انجمن قادیان کا حکم آخری ہوگا مگر اس کی نگرانی کا حق میاں بشیر احمد صاحب کو ہو گا بنگر وہ کسی شخص کو وہاں سے آنے کی اجازت نہیں دے سکیں گے۔یہ فیصلہ ہر حال میری زندگی میں مجھ سے تعلق رکھے گا۔مرزا محمود احمد - خلیفہ المسیح الثانی ١٨ ه روزنامه الفضل گرتوه ۱۷ مارچ ء ما که روز نامه افضل ریوه ۲۴ مارچ ۶۹۵۵ ۲۰۔