تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 449
۲۹م جسے میں حق سمجھوں گا۔لہذا میں جناب مفتی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ انہوں نے احمدیوں کے خلاف جو فتوی دیا ہے اس کے درست ہونے پر کوئی دلیل قائم کر دیں کیونکہ قرآن مجید جو ہم سب کے نزدیک کامل حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔فرماتا ہے۔قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوئی پر دلیل پیش کرو ہے۔دار سے۔میں جرمن مشن : حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود کے ارشاد مبارک کے پیش نظر جماعت احمدیہ کے یور میں نشتر کے مشنری انچار ج کئی سال سے ایک مقام پر اکٹھے ہو کہ سال بھر کے کام کا جائزہ لینے اور تبلیغ کے کام میں وسعت پیدا کرنے کے ذرائع پر غور و فکر کرنے کے لئے جمع ہوتے آ رہے تھے۔چنانچہ اس سال یہ سعادت جرمنی مشن کو حاصل ہوئی۔ہمبرگ میں یورپین مشنز کی یہ کانفرنس سے ۲۰ نومیر راہ تک جاری رہی یا ہمی خورد فکر کے علاوہ اس موقعہ پر تبلیغی رنگ بفضلہ تعالے وسیع طور پر پراپیگنڈا کرنے کا انتظام کیا گیا۔موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہ دار ٹو میر کو پریس کانفرنس اور 19 نومبر کو وسیع طور پر تبلیغی میٹنگ کا انتظام کیا گیا مبلغ جرمنی چوہدری عبد اللطیف صاحب کے علاوہ سوئٹزر لینڈ سے شیخ ناصر احمد صاحب ہالینڈ سے مولوی غلام احمد صاحب بشیر اور سپین سے چوہدری کرم اللہ صاحب ظفر نے کانفرنس میں شمولیت اختیار کی کانفرنس کے انعقاد سے ایک ہفتہ قبل جرمن نیوز ایجنسی نے اپنے نیوز بلیٹن کے ذریعے کا نفرنس کی اطلاع بڑی بڑی اخباروں کو بھیجوائی اور کئی ایک اخبارات نے اس خیر کو کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ہی شائع کر دیا اور شامل ہونے والے مشنری انچارج کے نام بھی شائع کئے۔اٹھارہ نومبر کو پریس کانفرنس منعقد کی گئی اس کا نفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے گورنمنٹ کے پریس سیکشن والوں سے تعاون حاصل کیا گیا اور ان کی وساطت سے ہمبرگ کی اخبارات اور پولیس کو دعوت نامے بھیجوائے گئے۔یہ کانفرنس ہمبرگ کے سب سے بڑے ہوٹل ATLANTIC میں شام ۲ بجے منعقد ہوئی۔ہمبرگ کے تمام روزانہ اخبارات اور بعض ہفتہ وار اخبارات کے نمائندوں کے علاوہ چھ معروف نیوز ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوئے بعض دیگر نامور جرنلسٹ اور ممبرگ کے ایک مشہور تشرق DR۔ABEL بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ دوست جرمن نیوز ایجنسی کے اسلامی ممالک کے له " الفضل " ربوه ۲۴ فروری ۱۹۵۵ ص۳