تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 448 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 448

الارنا دودا - سوقيه - القباني - النو بلاتی - سلطان - الدار كشلى - الجابي - المسيروان - اتركي الشريف با کبیر - البسطی۔اور الشوا وغیرہ خاندانوں کے لوگ شامل ہیں۔اور ان تمام لوگوں نے احمدیت کو پورے اطمینان ، مکمل تحقیق اور کامل یقین کے ساتھ قبول کیا ہے اور یہ لوگ ہمیشہ حکمت اور وعظ حسنہ کے ساتھ دعوت الی اللہ کر رہے ہیں اور ان لوگوں کی گفتگو ہمیشہ یا دلیل اور با سلوب احسن ہوتی ہے۔یہ لوگ جبر اور تشدد کے اس دھمکی آمیز طریق کو اس طرح حرام جانتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور نبی پاک صلے اللّہ علیہ وسلم نے اپنی سنت میں اسے حرام ٹھہرایا ہے یہ جبرو تشدد کا طریق وہی ہے جسے اس زمانہ میں اسلام کے نام سے پیش کرنے والے بہت سے فرقے ممالک اسلامیہ میں پائے جاتے ہیں حال ہی میں پاکستان اور مصر میں ان لوگوں نے حکومت کے خلاف اسی طریق پر ناکام کوششیں کی ہیں۔احمدی لوگ ہر ملک اور ہر حکومت میں جہاں مذہبی آزادی قائم ہے ملکی قوانین کی پوری پوری اطاعت کرتے ہیں کیونکہ قرآن مجید کا یہی حکم ہے نیز اسلام کی اشاعت اور امن کا قیام اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔اسلام رعایا میں سے کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی حکومت سے خیانت سے پیش آئے اور اس کے خلاف دل میں منصوبے باندھے اور قانون شکنی کرے در آنحالیکہ وہ حکومت عقیدہ اور خیال کی پوری پوری آزادی دے رہی ہو۔پس اس صورت میں جبکہ احمدی لوگ ہر جگہ پر قائم شدہ حکومت کے نہایت و قادار ہیں مفتی شام کا شامی گورنمنٹ کو احمدیوں کے خلاف اکسانا مفتی صاحب کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتا اس طرح جناب کا احمدیوں کے خلاف فتوی بھی انہیں اپنے عقیدے سے منحرف نہیں کر سکتا کیونکہ وہ لوگ احمدیت کو حقیقی اسلام یقین کرتے ہیں اور جناب مفتی صاحب نے اپنے فتوی کے سچا ہونے پر ابھی تک کوئی دلیل پیش نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے ہمارے مبلغ الاستاذ منبر المحضی کے ان سوالات کا جواب دیا ہے جو انہوں نے روزنامہ العلم " مورخہ 1 جولائی ۱۹۵۷ ء اور بعد ازاں رساله جامعه مورخہ ۲۲ مئی ۹۵۳اء میں شائع کیئے تھے اور جنہیں حال ہی میں انہوں نے اپنے ٹریکٹ " الجماعة الاحمديه والا نکلیز " میں چھاپ کر علماء کرام کے سامنے پیش کیا ہے۔میں نے بطور ایک حق پرست وکیل کے قسم کھا رکھی ہے کہ میں صرف اس امر کا دفاع کرونگا