تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 444
۴۲۴ مسلمان کہلا کر پھر کوئی شخص معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے نہ دیکھا جا سکتا تھا حتی کہ اگر کوئی شخص رومی ٹوپی پہن کر باہر نکلتا تھا تو سب لوگوں کی کیفیت یہ رہتی تھی کہ وہ اس پر پتھراؤ کرنے کے درپے نظر آتے تھے اس منقرر نے (ان کا نام مسٹر اے کے لاگوڈا تھا ، وضاحت کے ساتھ بنایا کہ جب سے احمدیہ جماعت نے کام شروع کیا ہے اور سکولوں کا آغاز کیا ہے نائیجیریا کے مسلمانوں کی حالت بالکل بدل گئی ہے۔اور اب تو وہ اللہ کے فضل سے گردن اونچی کر کے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ کہ وہ وقت قریب ہے جب اسلام دنیا میں اپنی جگہ پیدا کر کے رہے گا۔اس سے اگلے روز آبادان I BADAN میں مسلم کانگریس آف نائیجیریا نے اس وفد کے استقبال کا انتظام کیا ہوا تھا میں بھی وہاں مدعو تھا۔ابادان لیگوس سے کوئی سوا سو میل کے فاصلہ پر ہے، بارش کی وجہ سے سڑک خراب تھی۔راستے میں کئی جگہوں پر موٹروں کو رک رک کر چلنا پڑتا تھا۔چنانچہ میں اور میرے ساتھی کسی قدر تاخیر کے ساتھ آبادان پہنچے لیکن یہ تاخیر بھی ایک رنگ میں مفید اور دلچسپ ثابت ہوئی جب میں ابادان کی حدود میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ کچھ فاصلہ پر ایک جلوس جا رہا ہے۔حاجیوں نے اپنے زرق برق لباسوں سے جلوس کی شان دوبالا کر رکھی ہے ابھی میری موٹر ذرا ہی آگے بڑھی تھی کہ جلوس رک گیا اور مسلم کانگریس کے سیکرٹری حاجی انشولا صاحب دوڑتے ہوئے میری طرف آئے اور مجھے موٹر سے اتار کر جلوس کی طرف لے گئے۔وفد کے اراکین کچھ متحیر نظر آرہے تھے غالبا ان کو اس بات کی امید نہ تھی کہ ایک احمدی مبلغ کا اتنا خیال رکھا جاتا ہوگا لیکن رسولا صاحب تو جانتے تھے کہ میں نے ہر ممکن کوشش کر کے مسلم کانگریس کے نام کو آگے بڑھایا تھا اس لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلم کانگریس میرا خیال نہ رکھے۔بہر حال جلوس جامع مسجد میں پہنچا اور وہاں استقبالیہ جلسہ منعقد کیا گیا اور ایک لکھا ہوا ایڈریس وفد کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ایڈریس پیش کرنے والوں نے وہیں ایڈریس پر دستخط کئے اور ان میں سے پہلے مجھ سے دستخط کروائے گئے۔شام کے وقت لیگوس میں گلو در میموریل ہال میں انہیں استقبالیہ دیا جانے والا تھا چنانچہ اباد ان کے استقبالیہ جلسہ میں شرکت کے بعد میں لیگوس پہنچا۔گلو در پانی میں مقامی حاکم او با اڈیلے OBAADELE · نے تقریرہ کی اور اس کے بعد میں نے تقریبیہ کی۔میں نے اپنی تقریر میں چند ایک باتیں تو وفد سے کہیں اور چند ایک باتیں مقامی مسلمانوں سے۔اس کے بعد فیڈرل حکومت کے وزیر تعلیم (جو بعد میں شمالی نائیجیریا کے گورنر مقرر