تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 442 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 442

۴۲۳ سیکرٹری مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن لیگوس نائیجیریا نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو بتایا کہ :۔ہ ہمارے آباء و اجداد تعلیم سے بالکل بے بہرہ تھے وہ صرف نام کے مسلمان تھے۔اسلام کی حقیقت اور فلاسفی کا انہیں ذرہ بھر بھی علم نہ تھا اگر احمدیت ہمارے ملک میں داخل نہ ہوتی تو مکھی تھا کہ ہم کبھی کے عیسائی بن چکے ہوتے اور آج نائیجیریا میں اسلام کا نام و نشان نہ ملتا لیکن جب سے احمدیت نے ہمارے ملک میں پاؤں رکھا ہے نہ صرف یہ کہ ہمیں عیسائیت کے پنجہ سے نجات ملی بلکہ ہم نے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی اور اسی کے طفیل آج آپ لوگ چند ایک پڑھے لکھے مسلمانوں سے مل سکتے ہیں۔جماعت احمدیہ ہی ایک ایسی جماعت ہے جس کے نائیجیریا میں سب سے پہلا سکول جاری کیا " ایک اور غیر احمدی مقرر نے نائیجیر یا پولیس کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو بتایا کہ اگر چہ نائیجیریا میں مسلمان اکثریت میں نہیں لیکن حال یہ ہے کہ آج تک اُن میں سے کوئی بھی اس قابل نہ ہوا کہ ایک مسلمان اخبار جاری کرے جس کے ذریعے ہماری اولادیں اسلام کی صحیح روح کو سمجھ سکیں اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو وہ صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس نے ایک اخبار THE TRUTH جاری کر رکھا ہے۔اگلے روز یہ وفد مسلم کانگریں آف نائیجیریا کی دعوت پہ نائیجیریا کے سب سے بڑے شہر ابادان میں گیا۔کانگریس کے جنرل سیکرٹری نے بذریعہ تار مکرم سیفی صاحب کو شمولیت کی دعوت دی جس پر آپ بھی تشریف لے گئے۔اسی روز شام کے دس ہزار مسلمانوں کا ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں لیگوس کے مسلم زعماء نے خطاب کیا۔مکرم سیفی صاحب کی دوسری تقریر تھی آپ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ وفد کی آمد ہمارے لئے ایک سبق ہے اور وہ یہ کہ مسلمان خواہ دنیا کے کسی خطہ سے تعلق رکھیں خواہ مختلف زبانیں بولنے والے ہوں یا مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں سب کے سب ایک ہیں کیونکہ ہمارا خدا ایک ہمارا رسول ایک اور ہماری کتاب ایک ہے۔آپ کی تقریر از حد پسند کی گئی اور صدر جلسہ نے بھی اسے خوب سراہا اور کم از کم چار دفعہ حاضرین کو بتایا کہ جناب سیفی صاحب چونکہ مشتری ہیں اس لئے اگر دوسرے مقرر ان جیسی عمدہ تقریر نہ بھی کر سکیں تو تعجب کی بات نہیں۔اس یاد گار تقریر کے بعد چند اور تقاریر ہوئیں اور سات بجے شب کے قریب جلسہ