تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 437 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 437

وام حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب حضرت مولوی علی احمد صاحب بھاگلپوری ایم۔اسے پروفیسر جامعہ المبشرين - مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری پرنسپل جامعة المبشرين۔بعد ازاں تمام حاضرین نے دعا کی ہے لجامعة جامعة المبشمرین کی یہ سختہ عمارت نہایت تیزی سے مکمل کی گئی اور اس عمارت میں قریبا سات سال تک تعلیم و تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ازاں بعد سید داؤ داحمد صاحب پرنسپل جامعه که کی کوشش سے جب جامعہ کی موجودہ شاندار عمارت تیار ہوئی اور ۳ دسمبر 19ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے دست مبارک سے اس کا افتتاح ہوا تو جامعہ کی پہلی عمارت دارالاقامہ (ہوسٹل کے طور پر استعمال ہونے لگی۔لیکن یہ عمارت اب ہوسٹل کی ضروریات کے لئے بھی منتفی نہ رہی تھی اس لئے سید داؤ واحد صاحب پرنسپل جامعہ نے اس کی جگہ جدید طرز کے ایک نہایت وسیع ہوسٹل کی تعمیر شروع کروادی جو ان کی وفات (۱۲۵/۲۴ اپریل ۹۷ روم کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچی کہیے بقیه حاشیه: بہت سا سفر کیا ہے۔وہ محکمانہ دورے پر تھے۔کشمیر کی جنگ کے دوران میں انہوں نے اپنا بہت سا وقت کشمیر میں صرف کیا تھا۔ہسپتالوں کا انتظام ، ایمبولینسیں بیماریا۔سویلین، عوام ، زخمی رضا کاروں کے لئے طبی انتظام میں منہمک رہتے۔کرنل عطاء اللہ صاحب نہایت قوی دل کے مالک اور وسیع النظر جرمن نسل کے انسانوں کی طرح گھٹے ہوئے جسم والے ہیں۔جہاں تک یکیں نے دیکھا ان کا اپنے ماتحت افسروں سے برتاؤ ضبط اور انتظام کو قائم رکھتے ہوئے نہایت ہمدردانہ تھا۔چونکہ وہ کشمیر کے ساتھ بطور ڈاکٹر نہ کہ سیاست دان ابتداء سے ہی وابستہ رہے ہیں اس لئے آزاد کشمیر کے سفر کے دوران میں ان کے ساتھ تبادلہ خیالات کرنے سے مجھے اپنے قائم کردہ تازہ تازہ نقطہ ہائے نگاہ کو پرکھنے کا کافی موقعہ مل گیا۔(ترجمہ) (روز نامہ الفضل کی جور از ظهور ۱۳۳۳ بیش اگست ۱۹۵۳ء مش ) "الفضل" ۲۹ اگست ۲۶۱۹۵۴ شہ یادر ہے کہ یکم جولائی کاء کو سید نا حضرت مصلح موعود نے فیصلہ صادر فرمایا کہ جامعہ ادویہ کو جامعہ المشریک میں مدغم کر کے ایک ادارہ بنا دیا جائے حضور نے سید داؤ د احمد صاحب کو اس نے جامعہ احمدیہ کا یہ پرنسپل مقرر فرمایا۔سے تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو سیرت داؤد " ما تامل ناشر الجميعة العلمية بالجامعة الاحمديد برلوه