تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 433
مسیر احمد یہ دارالذکر گاہور کا عہ کے بعد لاہور میں جماعت کی تعداد ترقی کرگئی سنگ بنیاد ہوئی تو حضرت مصلح موعود نے تحریک فرمائی کہ اب اور مسجد احمدیه بیرون دہلی دروازه با لکلی ناکافی ثابت یہاں کی مسجد ان کی ضرورت کے لئے کافی نہیں۔انہیں کوئی اور مسجد بنانی چاہئیے۔اس تحریک مخلصین جماعت نے جوش اور اخلاص سے لبیک کہا اور بہت جلد ۲۲ ہزار کے وعدے ہوئے اور وصولی بھی تقریبا ۱۶ ۱۷ ہزار کی ہوگئی لیکن جماعت زمین نہ خرید سکی اور معاملہ التواء میں پڑھتا چلا گیا۔جس پر حضور نے ۱۵ جنوری ۱۹۵۷ء کو رتن باغ لاہور میں خاص اسی غرض سے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور لاہور کے دوستوں کو نصیحت فرمائی کہ " وہ جلدی مسجد بنائیں۔اس کے لئے تم زیادہ انتظار نہ کرو۔معمولی چار دیواری بناڈ اور نماز پڑھنی شروع کر دو نیز فرمایا۔" یہ نئی مسجد بھی کسی وقت تمہارے لئے تنگ ہو جائے گی۔اس لئے تم جامع مسجد کسی کو نہ کہو تمہیں کیا معلوم کہ خدا تعالے یہاں احمدیت کو کتنی ترقی دینا چاہتا ہے ؟۔فرض کرو تم دو یا چار کنال میں جامع مسجد بنا دو اور لاہور کے دس لاکھ آدمیوں میں سے دو لاکھ احمدی ہو جائیں تو اسمیں جمعہ کی نماز کہاں پڑھ سکتے ہیں ؟۔ان کے لئے تو پچاس ایکڑ میں مسجد بنانی پڑے گی۔پس ابھی کوئی نام نہ رکھو۔میں اپنی ضروریات کے لئے ایک نئی مسجد بنا لو یہ حضور کے اس اثر انگیز خطبے نے جماعت لاہور کے اندر ایک نئی روح پھونک دی اور خدا کے فضل سے گڑھی شاہو میں چھ کنال زمین کا ایک مناسب اور با موقعہ قطعہ بھی خرید لیا گیا۔سنگ بنیاد کے لئے حضور تے ۲۲ فروری ۱۹۵۴ء کا دن مقر فرمایا۔مجلس عاملہ خدام ان حمت لاہو ں نے بنیاد کھودی اور سڑک سے سٹیج تک اور سٹیج سے جائے بنیاد تک ایک راستہ بنایا جو قریبا پانچ سوفٹ لمبا تھا۔نیز دریوں۔شامیانوں اور قناتوں کا انتظام کیا اور سڑک سے جائے بنیاد تک معروف اور مخلص خدام دو رویہ قطار میں کھڑے تھے کہ حضرت مصلح موعود رتن باغ سے دس بجے تشریف لائے۔حضور نے پہلی زیر تجویز جگہ کی بجائے ایک دوسری جگہ بنیاد کیلئے پسند فرمائی اور وہیں حضور نے اپنے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھا اور حاضرین ه "بدر" قادیان ۱۴ مارچ ۱۹۵۷ ه - - لا ہور تاریخ احمدیت مشتی از مکرم شیخ عبد القادر صاحب