تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 431
۱۳ ۲۷ گورنر جنرل پاکستان کو ولندیزی ترجمہ و سال بر / جنوری به کوسیدنا تر آن کا محقہ حضرت مصلح موعود کی طرف سے جماعت احمدیہ کے ایک وقد نے مکرم مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کی قیادت میں ولندینہ کی ترجمہ قرآن کا ایک نعتہ ہز ایکسی لینسی گورنر جنرل پاکستان جناب غلام محمد صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔وفد صا حبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے علاوہ مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے ایڈیٹر تفسیر القرآن انگریزی - مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا اور مکرم مولوی عبدالمالک خان صاحب مبلغ سلسلہ پشتمل تھا۔یہ ترجمہ قرآن جماعت احمدیہ کی طرف سے 19 ء میں ہالینڈ کے دارلحکومت ہیگ سے شائع ہوا تھا بسلسلہ کے ایک مخالف ہفت روزہ " المنبر نے اس واقعہ پر حسب ذیل نوٹ لکھا :۔p پہلا ضابطہ قیام و ارتقاء یہ ہے وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الأرض پردہ چیز جو انسانیت کے لئے نفع رساں ہو اسے زمین پر قیام وبقاء عطا ہوتا ہے۔رحیم و رحمان کی رحمت کا ہوش اور دوام متقاضی ہے کہ انسانیت بڑھے پھولے اور تماقی پائے۔اسی مقصد کیلئے کائنات میں نفع رسانی" کا عنصر سب پر غالب رکھا گیا ہے۔اور جس چیز میں یہ جو ہر جب تک موجود رہتا ہے۔اس کی حفاظت عنا صر فطرت کے ذمہ بطور فرض عائد ہے۔دوخت کے پتے خواہ کانٹے دار درختوں کے ہوں یا پھل دار اشجار کے جب تک زہریلی گیسوں کو جذب کرتے اور صحت اور ہوا باہر پھینکتے رہتے ہیں۔درخت کی جڑ انہیں غذا بہم پہنچاتی رہتی ہے لیکن جو نہی ان کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ٹہنیاں انہیں اپنے جسم سے کاٹ دیتی ہیں اور وہ ایندھن کی شکل بقیه حاشید : (۳) ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل سابق مبلغ اٹلی - مغربی افریقہ۔(سم) قریشی محمد مطیع اللہ صاحب آف سیالکوٹ (۱۹۵۰) (۵) نذیر احمد صاحب کلا تھے مرچنٹ گولبازار ربوہ (۱۹۶۴) ) چوہدری محمد رمضان صاحب برادر چوہدری محمدحسین صاحب موذن مسجد مبارک دیوه (۱۹۶۷) در ساله خالد فردری شاء آخری سرورق ہی عه مه چون شام آخری سرورق اکتوبر ذات ) المصلح" کراچی ۱۲۰ صلح ۱۳۳۳ ش / جنوری ۹۵۳اء صل - له سورة الرعد : ۱۸