تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 385
سچی اور اچھی ہیں تو اُن میں سے ہی ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جن کے دلوں پر وہ باتیں اثر کریں گی اور وہ صداقت کو قبول کر لیں گے۔اس اہم ارشاد کے بعد حضور نے خواتین احمدیت کو مسجد ہالینڈ کے چندہ اور اسلامی پردہ کی طرف توجہ دلائی۔بعد ازاں قاتلانہ حملہ کی تفصیلات بیان فرمائیں۔تقریر کے دوسرے حصہ میں حضور نے تحریک جدید کے عالمی نظام تبلیغ کی اہمیت و ضرورت واضح فرمائی بتائیں اہم مقامات پر لائبریریاں قائم کرنے کا اعلان فرمایا۔ہر شہر، ہر قصبہ ، اور ہر گاؤں میں مساجد تعمیر کرنے کی تحریک فرمائی اور جماعت احمدیہ کو موثر رنگ میں تلقین کی کہ وہ اپنے علمی اور اخلاقی معیار کو بلند سے بلند نہ کرے۔اور محنت اور قربانی اور دیانت کو اپنا شعار بنائے۔اس پر زور اور پر جوش تقریر کا ایک اقتباس جو تحریک جدید سے متعلق تھا بطور نمونہ درج ذیل کیا جاتا ہے :- تم تھوڑے سے تھے جب تم دنیا میں نکلے۔اور تم نے نکل کر دنیا سے یہ منوالیا کہ اگر اسلام کی عت رکھنے والی کوئی قوم ہے تو صرف احمدی ہیں۔تم نے دنیا سے منوالیا کہ اگر عیسائیت کا جھنڈ از بیر کرنے والی کوئی چیز ہے تو وہی دلیلیں ہیں جو مرزا صاحب نے پیش کی ہیں۔جب عیسائیت کا نپنے لگی جب وہ تھر تھرانے لگی جب اس نے سمجھا کہ میرا مذہبی سخت مجھ سے چھینا جا رہا ہے اور یہ تخت چھین کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جا رہا ہے تو تم نے کہا ہم اپنی مونچھیں نیچی کرتے ہیں۔کیسی افسوس کی بات ہے۔یہی تو وقت ہے تمہارے لئے قربانیوں کا۔یہی تو وقت ہے تمہارے لئے آگے بڑھنے کار اب جبکہ میدان تمہارے ہاتھ میں آرہا ہے تم میں سے کئی ہیں جو پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔لیکن یاد رکھو اس قسم کی عزت کا موقع اور اس قسم کی برکت کا موقع اور اس قسم کی رحمت کا موقع اور اس قسم کے خدا تعالیٰ کے قرب کے موقعے ہمیشہ نہیں ملا کرتے سینکڑوں سال میں کبھی یہ موقعے آتے ہیں اور خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جن کو وہ موقعے مل جائیں۔اور وہ اس میں برکتیں حاصل کر لیں۔تو جوانوں کو میں خصوصا تو جہ دلاتا ہوں کہ خدام کے ذریعہ سے تم نے بڑے بڑے اچھے کام کرنے شروع کئے ہیں۔خدمت خلق کا تم نے ایسا عمدہ لاہور میں مظاہرہ کیا ہے کہ اس کے اوپر بغیر کہ پچھلے باب میں یہ تفصیلات آچکی ہیں۔