تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 376 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 376

۳۵۸ اور اگر کوئی غلطی سے ادھر کا رخ کرے تو چکر کاٹ کر بھاگ جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ پھل پیدا ہوا ہے۔اور ہم نے بھی فائدہ اٹھایا اور آپ کو بھی زیادہ پیسے دیئے۔تو پھل تو سب باغوں میں آتے ہیں۔باغبان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ بچپن اور نو جوانی میں بعض لوگ بیرونی اثرات کے ماتحت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ دوسری سوسائیٹیوں سے بُرا اثر قبول کر لیتے ہیں اور بعض تربیت کے نقائص کی وجہ سے آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تعدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ اس بیرونی تغیر کو جاعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے دیں۔اور اس مقصد کو ہمیشہ نوجوانوں کے سامنے رکھیں جس کے پورا کرنے کے لئے سماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے۔اگر نوجوانوں میں یہ روح پیدا کر دی جائے تو پھر بے شک شرارت کرنے والے شرارت کرتے رہیں۔خواہ اپنے ہوں یا غیر سب کے سب ناکام رہیں گے۔دنیا میں بسا اوقات اپنے دوست اور عزیز بھی مختلف غلط فہمیوں کی بناء پر مخالفت پر اتر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔پس خواہ اپنے لوگ مخالفت کریں یا غیر کہیں وہ اپنا کام کئے چلا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے کام اعلیٰ ہیں۔اگر میں اس راستہ سے ہٹ جاؤں گا تو ذلیل ہو جاؤں گا۔گذشتہ زمانہ میں مسلمان کمزور ہوئے تو اسی وجہ سے کہ اسلام کے باغ میں جو ثمرات اور پھل لگے۔ان پھلوں کی انہوں نے حفاظت نہ کی اور وہ گرنے شروع ہو گئے۔انہوں نے اسلام میں حاصل ہونے والی عزت پر دنیوی عزتوں کو ترجیح دینی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی شرکت آہستہ آہستہ مٹ گئی۔اگر وہ سمجھتے کہ یورپین سوسائٹی میں شامل ہونا یا ان سوسائیٹیوں میں کسی عزت کے مقام کا مل جانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و تم کی غلامی کے مقابلہ میں بالکل حقیر اور ذلیل چیز ہے تو وہ اُدھر کبھی نہ جاتے پس خدام الاحمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے مقصد کو اپنے سامنے رکھیں تا یورپ کے اثرات اور روس کے اثرات اور دوسرے ہزار دی اثرات ان کی نگاہ میں حقیر نظر آنے لگیں۔اور وہ سمجھیں کہ حقیقتی عزت اس کام میں ہے جو خدا نے ان کے سپرد کیا ہے۔