تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 361
۳۴۴ تھا کہ ہم اپنے کاموں کا اظہار کرتے۔ورنہ پہلے بھی ہمارے آدمی ہر مصیبت میں مسلمانوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور ہر مشکل میں ہم نے ان کی مدد کی ہے۔یہ کوئی نیا کام نہیں جو ہم نے شروع کیا ہو۔جب ہم قادیان میں تھے تو اس وقت بھی ہم خدمت خلق کرتے تھے۔1990ء میں جب انفلوانزا پھیلا ہے تو مجھے خلیفہ ہوئے ابھی چار سال ہی ہوئے تھے۔اور جماعت بہت تھوڑی تھی۔مگر اس وقت ہم نے قادیان کے ارد گرد سات سات میل کے حلقہ میں ہر گھر تک اپنے آدمی بھیجے اور دوائیاں پہنچائیں۔اور تمام علاقہ کے لوگوں نے تسلیم کیا کہ اس موقع پر نہ گورنمنٹ نے ان کی خبر لی ہے اور نہ ان کے ہم قوموں نے ان کی خدمت کی ہے۔اگر خدمت کی ہے تو صرف جاعت احمدیہ نے۔نہیں نے اس وقت طبیبوں کو بھی بلوایا اور ڈاکٹروں کو بھی بلوا لیا۔دنیا میں عام طور پر ڈاکٹر بلواؤ تو طبیب اٹھ کر چلا جاتا ہے۔اور طبیب بلاؤ تو ڈاکٹر اُٹھ کر چلا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ یہ بات نہیں ہوئی۔اور پھر اخلاص کی وجہ سے ہمارا ان پر رحب بھی ہوتا ہے بغرض میں نے ڈاکٹر بھی ا بلوائے حکیم بھی بلوائے اور ہومیو پیچھے بھی بلوائے۔اس وقت مرض نئی نئی پیدا ہوئی تھی ڈاکٹروں نے کہا ہم اس مرض کا علاج تو کریں گے مگر ہماری طب میں ابھی اس کی تشخیص نہیں ہوئی۔اور لٹریچر بہت ناقص ہے۔اطباء کے اصولِ علاج چونکہ کلیات پر مبنی ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بلغمی بخار ہے اور ہم اس کا علاج کر لیں گے۔میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ یہ جھوٹ بولیں یا سچ بولیں۔غلط کہیں یا درست کہیں ، بہر حال یہ کہتے ہیں کہ ہماری طب میں اس کا علاج موجود ہے۔اس لئے انہیں بھی علاج کا موقعہ دینا چاہیے۔چنانچہ میں نے ڈاکٹروں اور حکیموں کو ارد گرد کے دیہات میں بھیجوا دیا۔ساتھ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم کر دیئے۔وہ سات سات میل تک گئے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں آدمیوں کی جان بچ گئی ہے • له " تاریخ احمدیت جلده ۲۳۲ - ۲۳۳ - اخبار " فاروق " قادیان نے ، نومبر تشار کی اشاعت میں نکھار حضرت خلیفہ اسیج کی طرف سے ادویات کا ایک سٹور کھولا گیا ہے جس سے قادیان اور قرب و جوار کے مریضوں کو مفت دوا دی جاتی ہے۔اس سٹور میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سات سات بجے صبح سے لیکر رات کے دس دس بجے تک کام کیا۔اس محنت شاقہ کی وجہ سے آپ کی طبیعت بھی نا سانہ د باقی اگلے صفحہ میں )