تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 360
۳۴۳ جاتا ہے تو یہ انسانیت کا حق ہے کہ اسے اُٹھایا جائے۔اس میں خدام کا کیا سوال ہے ؟ ایک ہندوستانی پر بھی یہ فرض عائدہ ہوتا ہے ایک پنجابی پر بھی یہ قرض مائک ہوتا ہے۔ایک چینی اور ایک جاپانی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ایک سرحدی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔پس اگر اتفاقی طور پر کوئی شخص ایسا اتفاقی کام کرتا ہے تو یہ نعدام الاحمدیہ والی خدمت خلق نہیں کہلا سکتی۔بلکہ یہ وہ خدمت ہو گی جو ہر انسان پر انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتی ہے۔اگر وہ ان فرائض کو ادا نہیں کرتا تو وہ انسانیت سے بھی گر جاتا ہے۔پس اپنے پروگراموں پر ایسے رنگ میں عمل کرو جیسے اس دفعہ لاہور کے خدام نے خصوصیت سے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔اسی طرح ربوہ کے تعدام نے بھی اچھا کام کیا ہے بسیالکوٹ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ملتان کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے اور کراچی کے خدام نے بھی بعض اچھے کام کئے ہیں۔گودہ نمایاں نظر آنے والے نہیں۔پس متواتر اپنے جلسوں اور مجلسوں میں اس امر کو لاؤ کہ تم نے زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کرنی ہے اور ایک پروگرام کے ماتحت کرنی ہے۔تاکہ ہر شخص کو تمہاری خدمت محسوس ہو۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دکھاوا ہے۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نمائش ہے۔مگر کبھی کبھی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔اگر تمہارے دل کی خوبی اور نیکی کا اقرارہ دنیا نہیں کرتی تو تم مجبور ہو کہ تم لوگوں کو دکھا کر کام کہ وہ تم نے بہت نیکی کی ہے مگر دنیا نے تمہاری نیکی کا کبھی اقرار نہیں کیا۔پہلے بھی لوگوں کی مصیبت کے وقت ہم کام کرتے رہے ہیں مگر مخالف یہی کہتا چلا گیا کہ احمدی احمدی کا ہی کام کرتا ہے۔کسی دوسرے کا نہیں کرتا۔یہ بالکل جھوٹ تھا جو مخالف بولتا تھا۔ہم خدمت خلق کا کام کرتے تھے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے خدا کے لئے کیا ہے ہمیں اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے ؟۔مگر جب تمہاری اس نیکی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور تم پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ تم مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں۔جب تم پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ تم اپنی قوم کی خدمت کے لئے تیار نہیں تو پھر وہی نیکی بدی بن جائے گی۔اگر ہم اس کو چھپائیں۔پس اس نیکی کا ہم علی الاعلان اظہار کریں گے۔اس لئے نہیں کہ ہم بدلہ لیں بلکہ اس لئے کہ وہ کذاب اور مفتری جو ہم پر الزام لگاتے ہیں ان کا منہ بند ہو۔پس مجرم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ضروری