تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 350
اُن کو یہ گزارہ بھی نہیں ملتا تھا وہ اپنا اپنا کام کرتے تھے اور پیٹ پالتے تھے لیکن دینی کاموں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے بلکہ دینی کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیتے تھے۔پھر فرمایا : " جب کسی قوم پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ ترقی کر جاتی ہے تو اُس کے علماء کو ایک نمایاں مقام حاصل ہو جاتا ہے اور در حقیقت اُن کے آگے آنے کا حق ہوتا ہے بشرطیکہ وہ ان کاموں میں حصّہ نہ لیں جو اُن سے تعلق نہیں رکھتے جیسے پچھلے دنوں علماء نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا تو وہ ملامت کا ہدف بن گئے۔اسی طرح اب بھی علماء اپنا کام چھوڑ کر سیاسیات میں حصہ لیں گے تو وہ لوگوں کی ملامت کا ہدف بن جائیں گے لیکن اگر علما وایسی باتوں میں دخل نہ دیں تو اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ جب بھی کوئی قوم ترقی کرے گی تو علماء بہر حال زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔یورپ میں دیکھ لو کہ کنٹر برسی کا پادری ایڈورڈ ہفتم کے خلاف ہو گیا تو اسے تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔اب یہ کتنی طاقت ہے کہ ایک پادری ناراض ہو جاتا ہے تو بادشاہ بھی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔پس یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی قوم کو عزت ملے گی تو اس کے علماء کو بھی عزت ملے گی " حضور نے خطبہ کے آخر میں تحریک فرمائی کہ :- تم ضرورت وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کرو اور یہ وقت اتنی کثرت سے ہونا چاہیے کہ اگر دس نو جوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سو نوجوان پیش کرے برسے حضرت امیر المومنین کی اس تحریک پر کئی مخلص خاندانوں نے لبیک کہا اور متعدد احمدی نوجوانوں نے اپنی جانیں اپنے مقدس امام کے حضور پیش کر دیں۔اکتوبر سواء کے آخر سی ایام میں پاکستان کے لئے تحریک کا اور اس کی فوری قبولیت پاکستان شدید سیاسی بحران سے دوریا ہو گیا۔اور دستور ساز اسمبلی ایک کھیل بن کر رہ گئی۔اور بعض قوانین تو اتنی جلدی جلدی پاس کئے نه۔الفضل ١,٢٠ خاء ٣٣٣ امیش ۳۰ اکتوبر ۶۱۹۵۶ ۲۰-۶