تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 22
امر کا اشتیاق ہے کہ ان کے پاس قرآن کریم کا اپنا نسخہ ہو۔مجھے اس امر کا علم ہے کہ آپ اسلام کی اشاعت پر بہت روپیہ خرچ کر رہے ہیں اور آپ کو پیش کر خوشی ہوگی کہ افریقیوں میں مذہب اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے یہ مندرجہ بالا اقتباسات سے بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ اِس ترجمہ نے مشرقی افریقہ کی علمی اور تبلیغی تاریخ پر کتنا گہرا اثر ڈاں ہے۔جہاں مشرقی افریقہ کی ممتاز مسلم اور غیر سم شخصیتوں ترجمه سواحیلی کار و عمل منتصب طبقہ ہے نے اس اسلامی خدمت کو فراخ دلی سے سراہا اور خراج تحسین ادا کیا وہاں ایک صاحب شیخ عبد الله صالح غیر از جماعت عالم نے اس ترجمہ کے ایک خاصے حصہ کی حرفاً حرفاً نقل کی اور اس کے بعض مقامات میں اپنے مخالفانہ نوٹوں کا اضافہ کر کے اسے ایک نئے ترجمہ کے طور پر شائع کیا۔اس حرکت کو مشرقی افریقہ کے علمی حلقوں میں انتہائی غیر پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا چنانچہ ایک • غیر از جماعت عالم الشیخ شریف احد عده ای آن مبروٹی کینیا نے اپنی کتاب FIMBO YA MUSE (عصائے موسی کی فصیل مفتم صفحہ اللہ میں اس روش پر تنقید کرتے ہوئے لکھا:۔"Pia ni ajabu ya pili kwa Sheikhtukitazama Täfsiri yake jinsi alivyowashambulia hawa Makadiani, baadaye akawa akarudi afasiri na kueleza kama wali- vyofasiri na kueleza wao Makadiani۔” (FIMBO YA MUSA cha Sharief Ahmad A۔Badawiy, Faslu ya Saba ‘Kupingana Makadiani', Jalalen na Kuafikiana na uk۔41)۔شیخ عبد اللہ صالح) کی دوسری تعجب انگیز بات یہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ پہلے تو وہ قادیانیوں کے ترجمه اخبار ایسٹ افریقین ٹائمز " نہ EAST AFRICAN TIME" دسمبر ۶۱۹۵۹ صلا به سے بحواله سواحیلی اخبار میکینزی یا مونگو " MAPENZI YA MUNG U" اگست ۶۱۹۷۱ +