تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 302
۲۸۵ سید نا حضرت مصلح موعود نے اپنی افتتاحی تقریر میں ملک کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر چندہ کی ایک اور تحریک خاص فرمائی تھی۔اور وہ یہ کہ غیر موصی اصحاب ایک پیسہ نی روپیہ اور موصی احباب کم از کم دو پیسے فی روپیہ اضافہ کر دیں جو ایک مستقل فنڈ کے طور پر رہے۔یہ تحریک ابتداء میں تین سال کے لئے جاری ہو۔اور اس میں سے مبلغ چالیں ہزار حفاظتی تدابیر پہ ربوہ اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں خریج ہو۔اور چالیس ہزار کی رقم ان جھوٹے الزاموں کے ہد کرنے میں صرف کی جائے جن کی وجہ سے تشدد انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں اور جن کی ایک کڑی سی قاتلانہ حملہ کاسانحہ بھی ہے۔اس فنڈ میں سے اٹھارہ ہزار روپیہ ایک جیپ کار کی خرید اور اس کے اخراجات کے لئے مختص ہوگی بسب کمیٹی بیت المال کی طرف سے جب شوری کے سامنے یہ مفصل تجویزہ پیش ہوئی تو نمائندگان نے اس کے حق میں بھی بالا نافی رائے دی جس کو حضور نے بھی منظور فرما لیا ہے سید نا حضرت مصلح موعود کی بیعت جو حملہ کے باعث پہلے ہی علیل تھی، شوری میں پہلی تقریر کے بعد اور بھی ناساند ہو گئی جس کی ایک ظاہری وجہ یہ ہوئی کہ حضور حملہ کے بعد پہلی بار پگڑی پہن کر آئے تھے۔پگڑی کا سریہ بوجھ محسوس ہوتا تھا نیز کلاہ عین زخم کی جگہ کے اوپر لگتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ شدید درد شروع ہوگیا جس نے دن اور رات حضور کو بے چین کئے رکھا۔مگر اس نا قابل برداشت تکلیف کے باوجود حضور مجلس شوری کے تیسرے دن صبح و بسجے ہال میں تشریف لے آئے۔اس وقت حضور کے سر مبارک پر پگڑی کی بجائے ایک قسم کی ترکی ٹوپی تھی اور ٹوپی پہ ایک رومال بندھا ہوا تھا۔سب سے پہلے انڈونیشیا کے صالح الشیبی نے تلاوت قرآن مجید کی۔اس کے بعد حضرت مصلح موعود نے کرسی پر رونق افروز ہو کر خطاب فرمایا کہ :- احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ جو کام بھی کریں ہوشیار ہو کر کریں۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ ہی ہر کام کرتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ عملی طور پر یہ نہیں ہوتا۔کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اتر کر یہ کہے کہ تم لحاف اوڑھ کر چارپائی پر لیٹے رہو میں تمہاری جگہ کام کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ سلام سے کہا تم اُس باغ میں رہو۔اور اس کے پھل کھاؤ لیکن فلاں دروازہ سے چوکنا ر ہیں۔اگر اس دروازه سے شیطان تم پر حملہ آور ہو گیا۔تو میں زمہ دار نہیں ہوں گا۔پھر جب شیطان نے حملہ کر دیا۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ یہ میری غلطی تھی۔میں نے تمہیں کیوں نہ بچایا بلکہ اس نے کہا میں نے تمہیں ے رپورٹ مجلس شوری ۱۹۵۴ء ص ۳۶ - ۳۷