تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 246 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 246

۲۳۲ با موش تھے اور آپ کی زبان پر بیح و تحمید جاری تھی۔آپ نے صلہ ہونے کے فورا بعد سجد سے نکلتے ہی ہدایت فرمائی کہ حملہ آور کو صرف قالعہ کیا جائے لیکن اُسے مارا نہ جائے۔یہ حملہ ناگہانی اور اچانک تھا اور جونہی نمازیوں کو اس کا پتہ لگا ان میں سے چند دوست لیک کر حضور کے پاس پہنچے اور کچھا جناب نے حملہ اور کوگرفتار کرنیکی سعی کی۔اس افراتفری اور انتہائی غم و غصہ کی حالت کے باوجود یہ صرف جماعت احمدیہ کی اخلاقی قوت اور اپنے امام ہام ایدہ الہ بصرہ کے ارشادات کی تعمیل کے جذبہ کا ہی نتیجہ تھا کہ حملہ آور محفوظ حالت میں فوراً حوالہ پولیس کر دیا گیا۔اے مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری حضرت مصلح موعود کا بیان ہے کہ ار ما پرچ شام کو جب مسجد مبارک میں حضرت مصلح موعود پر چاقوسے حملہ کیا گیا۔خاکسار بھی اس وقت مسجد میں تھا۔اور حضور کے سلام پھیرنے کے بعد محراب کے شمالی دروازہ سے باہر نکلا۔اچانک محراب کے باہر کے دروازہ سے حضور کو جھکا ہوا دیکھا کہ حضور گرنے کے قریب ہیں خاکسار محراب کے غربی جانب کے چہوترہ کی طرف آیا اور حضور کو سہارا دیا۔مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ نماز کے بعد اچانک حضور پر حملہ ہوا ہے جس کا نتیجہ میں دیکھ رہا ہوں اتنے ہیں دیکھا کہ مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب حضور کے قریب گئے ہیں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ محراب کے سیدھے غربی جانب اندر سے ہی آتے ہیں یا باہر سے آئے۔چنانچہ انہوں نے حضور کو دائیں جانب سے سہارا دیا اور حضور کی بغلوں کے نیچے باز و یک سہارا دیاناکہ (بقیہ حاشیہ ) ہوئے کار لیک آئے کہ فورا چلو حضور پرکسی نے قاتلانہ حملہ کیا ہے خاکسار اسی وقت قصر خلافت پہنچا حضرت مصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن کے دائیں طرف تقریباً تین انچ لیا اور بہت گہر نہ غم تھا۔خاک رنے اُسی وقت ہسپتال سے ضروری سامان منگوایا اور حضور ایدہ اللہ کے رخ کو عارضی ٹانکے لگائے تاکہ خون زیادہ نہ ہے خون پہلے بہت زیادہ نکل چکا تھا) اس کے بعد خاکسار نے فوری ارجنٹ ٹیلیفون پر نیٹڈاکٹر مسعود احمد کو کیا کہ وہ کسی اچھے سر جن کو لیکر فوری آجائیں چنانچہ اغلباً رات دس اور بارہ بجے کے درمیان پر وفی مسعود احمد صاحب اپنے ساتھ ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب سرجن کو لیکر آئے ، انہوں نے اور ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے مل کر عا منی ٹانکے نکالے زخم کا اچھی طرح معائنہ کیا اور پھر پختہ ٹانکے لگائے حضور رضی اللہ عنہ کو درد اور بے چینی کی بہت تکلیف تھی جس کیلئے مناسب ادویہ دی گئیں " ے ماہنامہ الفرقان ربوه بابت ضروری و ماراح ۱۹۵۳ از صفحه ی وب