تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 245 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 245

٢٣١ چا تو کا یہ دار حضور ایدہ اللہ نصرم کی گردن پر شہ رگ کے قریب دائیں طرف پڑا جس سے گہر گھاؤ پڑگی حملہ آور نے دوسرادار بھی کیا مگر محمد اقبال صاحب محافظ کے درمیان میں آجانے کے باعث اس مرتبہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تبصرہ کی بجائے چاقر ا سے جالگا اور وہ زخمی ہو گیا۔نمازیوں نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی اور کافی جدوجہد کے بعد اسے قابو میں لایا گیا اور اس کوشش میں بعض دوسرے بھی زخمی ہوئے ہے۔حضرت امام جماعت احمد یہ زخم لگنے کے فوراً بعد بہتے خون کے ساتھ چندا حباب کے سہارے سے اپنے مکان میں تشریف لے گئے۔بھون کو ہاتھ سے روکنے کی پوری کوشش کے باوجود تمام راستہ ہیں اور سیڑھیوں۔پر خون مسلسل بہتا گیا، جس سے حضور کے تمام کپ رہتے، کوٹ انفر سویٹر، قمیض در بنیا نہیں اور شلوار خون سے تر یہ تر ہو گئے۔حضور کے ساتھ چلنے والے بعض خدام کے کپڑوں پر بھی مظلوم امام کے مقدس خون کے قطرات گرے (خاکسارا ابو العطا کے کوٹ، پاجامہ اور پگڑی پر بھی اس پاک خون کے قطرات پڑے ہیں، مکان پر پہنچ کر ابتدائی مرہم پٹی جناب ڈاکٹر صا حبزادہ مرزا منور احمد صاحب ایم بی بی ایس اور جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے کی۔اور زخم کو صاف کر کے اور ٹانکے لگا کر یہی دیا۔ابتداء میں بر خیال تھا کہ زخم یوں اپنے گہر اور تین انچ چوڑا ہے لیکن جب رات کو لاہور سے مشہور سرجن جناب ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب تشریف لاتے اور انہوں نے زخم کی حالت دیکھ کرضروری سمجھا کہ ٹانکے کھول کر پوری طرح معائنہ کیا جائے تو معلوم ہوا کہ زخم بہت زیادہ خطرناک اور سوا ہم اپنے گہرا اور شاہ رگ کے بالکل قریب تک پہنچا ہوا ہے۔محترم ڈاکٹر صاحب نے اپنی خداداد مہارت سے کام لیکر قریباً سوا گھنٹہ لگا کر زخم کا آپریشن کیا اور اندر کی ریبانوں کا منہ بندکر کے باہرٹانکے لگا دیتے تھے۔۔۔۔۔اس تمام عرصہ میں حضرت امیر المومنین ایده الله بصر ا مثلا عبد العزیز جمن بخش صاحب ( مجاہد سرینام ، ڈچ گیا نا ) جن کا دایاں انگوٹھا چاقو سے مجروح ہوا اور مستقل طور پر زخم کا ایک نشان چھوڑ گیا۔آپ اپنی زندگی میں ہمیشہ یہ نشان دکھایا کرتے اور اپنی اس خوش نصیبی پر فخر کرتے تھے کہ خلیفہ موعود مصلح موعود کی حفاظت میں یہ زخم آیا ہے ، وفى سبيل الله مالقيت صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب فرماتے ہیں یہ کپڑے صاحبزادہ مرزا رفیق احمد کے پاس ہیں اور سید قمرسلیمان احمد صاحب خلف الرشید سید داد واحمد صاحب مرحوم تحریر کرتے ہیں کہ جب سیدنا اصبح الموعودؓ پر مسجد مبارک میں حملہ ہوا تو ابا جان وہیں تھے۔حضور کا مبارک خون ابا جان کی قمیص پر بھی لگ گیا تھا۔اور ابا جان نے حضور کی خون آلود قیص اور اپنی یہ قمیص محفوظ کر لی تھیں۔سیرت داؤد ناشر جامعہ احمد یہ ربوہ صفحہ ۱۶۷ - ۱۶۸) سے جناب صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب چیف میڈیکل آفیسر فضل عمر ہسپتال ربوہ کا بیان ہے کہ جس وقت حضرت مصلح الموعود رضی اللہ تعالی عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا خاکسار گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ قریشی نذیر احمد صاحب ڈرائیور حضور گھرائے (باقی اگلے صفحہ پر)