تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 239
۲۲۷ محفوظ دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔جلسہ کی اور بعد کی دو ایک تاریخیں ملاکر اُس نے کہا کہ ان دنوں میں یہ بات یقیناً نہیں ہوگی شاہ ، ارجون نشانه کوحضور کی زبان پر فلما تو نیت کی آیت جاری ہوئی جس کا واضح مطلب یہی تھا کہ کوئی انسان آپ کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا بلکہ آپ کی وفات طبعی ہوگی۔(۴) حضرت مصلح موعود اوائل اہ میں لاہور میں قیام فرما تھے۔اس دوران حضور نے ایک ملاقات ہیں چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کو اپنی عدالتی گواہی کے بعد یہ خواب سنایا کہ کسی شخص نے حضور پر حملہ کر دیا ہے۔ابتدا ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب آگیا ہے۔لیکن بالآخر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے ہے حضور نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں انکوائری کمیشن کے ہال میں ہوں۔۔۔۔اس وقت مجھ پر پیچھے سے ایک شخص نے حملہ کیا ہے اور میں گر گیا ہوں۔۔۔حملہ آور نے یہ دیکھ کر کہ میرے حملہ سے یہ نہیں مرے بھاگ کر کوئی اور مہتھیار لانا چاہا اور مجھے چھوڑ کر بچھے ہٹا۔تب میں اُٹھ کر تیزی سے ایک دروازے کی طرف گیا اور اس دروازہ سے باہر آکر دروازہ بند کر کے چند منٹوں پر جو باہر نکلی ہوئی ہیں میں بیٹھ گیا۔انھم کے دوران حضرت مصلح موعود کے خلا ہے رہتے تھے اور ان ناکامی کے بعد ہ ہ ہو جاتے ہیں کرکس کرنے کے اب یہ اٹر کے بعد حضرت مصلح موعود پر حملہ کرنے اور آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔لہ کے تلاطم خیز دور میں جبکہ حضرت مصلح موعود نے کتاب رنگیلا رسول اور رسالہ " در تمان " کے فتنہ کے خلاف عت مسلمانان ہند کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا بعض غیر از کجا معز مسلمانوں کے خطوط حضور کی خدمت میں پہنچے کہ دشمنان اسلام آپ پر حملہ کی تجویز ہی کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں بیسیوں اصحاب نے خواب دیکھے جن میں اس خطرے کی نشاندہی کی گئی تھی جس سے تحریک ہوئی کہ حفاظت کا خاص انتظام کیا جانا چاہیئے بے ازاں بعد حضور کو ہر سال صراحتہ قتل کی دھمکیاں بھی ه الفضل قادیان ، ار جنوری ۱۹۳۵ء صفحه به کالم له الفضل ربوده و جولائی ۱۹۵۲ م ص ۵ کالم ۱ ۳ ۳۳۳ س روزنامه المصلح" کراچی ۱۲ رامان ماراح ارش صفحه ۳ کالم ۲ ۱۹۵۴ ه مفصل خواب ۱۲۶ نبوک ۱۳۳۳ ش / ۱۹۵۴ء ص ہم میں شائع شدہ ہے۔ش تقریر دلپذیر (۱۹۲۷ء) صفحه به مطبوعه و سمبر ۱۹۲۸ء