تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 234
۲۲۲ اسلامی روح کے ساتھ علم کے کسی شعبہ یا کسی شاخ کی تحقیق کر رہا ہو اس کی نظر سبع بھی ہوگی اور باریک بھی۔اور ہر قدم پر اپنے محبوب حقیقی کی قدرت نمائی کے جلوؤں کا مشاہدہ کرے گا۔آپ کا یہ لطیف مضمون اس طرح قرانی آیات کیسا تھ مربع تھا جس طرح انگشتری نگینے سے مرصع ہوتی ہے۔قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے مختلف علوم و فنون اور سائنس کے میدان میں جو بے نظیر خدمات انجام دیں اور نئے نئے علوم و حقائق کا انکشان کیا ان کا آپ نے دلنشیں اور موثر پیرا یہ میں ذکر کر کے فرمایا :- و مشتق اور بغداد قاہرہ اور قیروان، قرطبہ اور اشبیلہ اور غرناطہ، ہمدان ، اصفہان اور شیراز طوس اور نیشا پور، بل بنجارا اور سمرقند درجہ بدرجہ علوم کے آسمان پرز نیز بر فشاں بن کے چھکنے لگے اس تمام علمی نور کا اصل منبع اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو مردہ پرستی اور باطل نوازی کی زنجیروں سے آزاد کر کے پھر خالق حقیقی سے روشناس کرایا۔انسانی دماغ کو نئی روشنی بخشی اور اسے نئی امنگوں اور نئے عزائم سے معمور کر دیا۔آپ نے خطبہ کے آخر میں طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ در دنیا آج دعا کی طاقت سے غافل ہے۔یہ ہتھیار اور طاقت ہر کسی کو میسر ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جو اس پر ایمان رکھتا ہو اور اسے استعمال کرنا جانتا ہو۔پس اس نہایت طاقتور مہتھیار کے استعمال کی عادت ڈالو سے پاکستان کے رسالہ قومی زبان (کراچی) نے اپنی ہار مارچ ۹۵ائد کی اشاعت میں اس بصیرت افروز خطبہ پر حسب ذیل تبصرہ شائع کیا :- یونیورسٹیوں میں تقسیم اسناد کے جلے ہر سال ہوتے ہیں۔یہ رسم زمانہ دراز سے چلی آرہی ہے۔ان جلسوں میں خطے کے لئے اول ایسے اصحاب کو مدعو کیا جاتا تھا۔جوڈی علم اور اہل کمال ہوتے تھے۔بعد ازاں ایسے لوگوں کا بھی انتخاب ہونے لگا جو کسی وجہ سے نامور بادی جاہ یا ملک کے کسی منصب پر فائز ہوئے۔ان خطبوں میں ملک کی تعلیمی حالت یا کبھی کبھی علم وفضل اور تحقیق کا ذکر ہوتا۔اور آخر میں طالب علموں کو مشورے اور پند و نصائح ہوتے۔یہ حال گذشتہ تیس سال پہلے کا تھا۔بعد میں جب ملک میں سیاست اور آزادی لے خفیہ کا منفن رسالة المنار تعلیم الاسلام کالج لاہور) جون ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا۔