تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 222 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 222

۲۱۰ چوہدری نذیر احمد صاحب امیر سیرالیون ، مولوی محمد عبد الکریم صاحب ، مسٹر موسے سودا صاحب لوکل مبلغ ، مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری مبلغ سیرالیون ، الفا احمد دوری صاحب - چھٹا اور آخری اجلاس مولوی محمد عبد الکریم صاحب کی زیر صدارت ہوا۔جن کے نئے امیر سیرالیون ہونے کا اعلان اس کا نفرنس کے اجلاس دوم میں سابق امیر شیر الیسون چوہدری نذیر احمد صاحب نے کیا تھا۔یه اختتامی اجلاس شوری کی حیثیت رکھتا تھا جس میں نمائندگان اور مبلغین نے جماعت احمد یہ سیرالیون کی ترقی اور کامیابی کے لئے اہم تجاویہ پر غورکیا اوراور باتفاق رائے یہ تجویز پاس کی کہ جلد از جلد ایک پر میں خرید کر ایک جماعتی اخبار جاری کیا جائے۔پریس کے لئے پانچ سو پونڈ کی رقم تجویز ہوئی جس کی ادائیگی کے لئے مخلص بن نے اجلاس میں ہی وعدے لکھوانے شروع کر دیئے جن کی تعداد ۱۴ (پونڈ تک پہنچ گئی۔اور باقی رقم کے لئے جماعتوں کے نام سر کلر جاری کر دیئے گئے۔دوسرا ہم فیصلہ یہ کیاگیا کہ حمدیہ سکول بو کو سیکنڈری سکول بنادیا جائے۔تارہ طلبہ جاحد ریسکولوں سے تاریخ ہونے کے بعد دوبارہ ایک نیت کی مسموم فضا میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں کسی حد تک محفوظ ہو جائیں اور دینی ماحول میں تعلیم حاصل کر کے اسلام کے لئے مفید وجود ثابت ہو سکیں۔یہ اختتامی اجلاس رات کے دس بجے تک جاری رہا اور محترم امیر صاحب سیرالیون کے مختصر خطاب اور دعا پر اختتام پذیر ہوا۔مسلے مبلغین کی مرکز احمدیت میں بیرونی ممالک ستید نا حضرت اقدس المصلح الموعودور بوده کی بنیاد 19 ستمبر لہ ہی سے یہ دعائیں بکثرت کر رہے تھے کہ الہی ! سے واپسی اور روانگی اس نئی بستی کو مرکز توحید بنا دے۔ان منظر تھانہ دعاؤں کی قبولیت کے آسمانوں پر قیامت تک کیا گیا اسباب پیدا ہوں گے۔اِس کی نسبت تو مستقبل کا مورخ ہی بتا سکے گا۔تاہم یہاں اس قدر بتانا ضروری ہے کہ ان دعاؤں کے بعد فوری طور پر یہ سامان پیدا ہوا کہ اس مقدس مقام میں بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بجالانے والے مجاہدین کی مراجعت و روانگی کا ایک ایسا غیر معمولی سلسلہ شروع ہو گیا جس کی نظیر متحدہ ہندوستان کی تاریخ احمدیت میں نہیں ملتی۔جیسا کہ خود حضرت مصلح موعود نے ے آپ کی نسبت چوہدری نذیر احمد صاحبے کا نفرنس میں اعلان فرمایا کہ ہمیں بہت جلد آپ بھائیوں سے جدا ہونیوالا ہوں۔آج سے آپ کے امیر مولوی مد عبدالکریم صاحب ہوں گے۔چنانچہ آپ اس کے بعد جلد ہی پاکستان میں تشریف لے آئے) سه روزنامه المصلح کراچی ۱۳ فروری ۱۹۵۳ / ۱۳ تبلیغ ۱۳۳۳ مش ص۳