تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 160 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 160

پنتالیس ہزار کے عظیم الشان اجتماع میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود کا محرکة الآرا خطاب" ہمیں امریکہ برطانیہ اور کمیونسٹوں سے بے نیاز ہو کر سلام کی اساس پر پاکستان کی حکومت کی تعمیر کرنی چاہیئے زیوه ۲۷ دسمبر : بعد از نماز ظر حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب امام جماعت احمدیہ پاکستان نے خطبہ مسنونہ محمدیہ علی صاحب السلام و تسلیمات و علی آل و اصحابہ الکرام کے بعد ارشاد فرمایا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ایک آزا د سر زمین پر اپنے خدا جل شانہ اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد وستائش کے لئے ایک جگہ پر جمع ہوئے ہیں۔یہ خدا کا انتہائی فضل اور اس کے رحم اور اس کے کرم کی دلیل ہے کہ ہم مسلمان با وجود اپنی اختلاف رائے کے بھی مذہب کے معاملے میں ایک ہیں ہم سب مسلمانوں کا ایک خدا کی ذات اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے قرآن پر ایمان ہے۔ہمارے اختلافات باعث رحمت ہیں کیونکہ اس سے علم تحقیقات کے نکات اور خدمت اسلام کی راہیں ہم پر چھلکتی ہیں۔ہمارا اثاث صرف مذہب اسلام ہے، ہم اسلام کے لئے جئیں اور اسلام کے لئے مریں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان نبوت کو برقرار رکھنے کے لئے ہم ہر جائز بعدہ و جہد کو جاری رکھیں۔آپ نے فرمایا ہمارا مسلک غیر سیاسی ہے لیکن حالات جو مسائل پیش کرتے ہیں اس پر بھی مجھے کچھ کہنا ہے اور وہ ملک میں ہمارا حکمران طبقہ امریکہ ، برطانیہ اور کمیونسٹ تین آراد رکھنے والے گروہ ہیں۔آپ نے فرمایا جب ہم ایک آزاد ملک کے مالک بن چکے ہیں تو ہمارا نصب العین صرف یہ ہونا چاہیے کہ ملک میں کمیونسٹ نہ بڑھیں۔آپ نے فرمایا اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ہم جب برطانیہ سے آزاد ہو چکے ہیں تو ہم اس کی رسی کو پھر گلے میں نہ ڈالیں اور ہم کو اس کی غلامی پہ فخر نہیں کرنا چاہئیے۔آپ نے فرمایا کہ امریکہ ایک بہت بڑا سرمایہ دار ملک ہے اور اس کے ساتھ گٹھ جوڑ مناسب نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ہمارے معاہدات کی بنیاد اس اصول پر ہو کہ پاکستان آزاد ملک کی حیثیت سے قائم رہے اور وہ آزاد ملک کی حیثیت سے برطانیہ اور امریکہ سے اپنے تعلقات قائم رکھے۔آپ نے فرمایا آزادی بہت جدوجہد کے بعد ملی ہے اور اس کی قدر وہی جانتے ہیں جنہیں آزادی کی ماہیت کا علم ہو۔