تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 3
مقرر تھا بغرض رائے بھجوا دیا گیا۔اس ادارہ نے اپنے ماہرین کو اس کی دو کا پہیاں بغرض تنقید و اصلاح بھیجوائیں اور خواہش کی کہ وہ ترجمہ اور زبان دونوں کے متعلق اپنی رائے سے پورے غور و فکر کے بعد مطلع کریں۔اپریل ۱۹۲۴ء میں اس ادارہ کے سیکریٹری نے ان ماہرین کی کئی صفحات پر عمل آراد ہمیں بھیجوائیں۔ان کی متفقہ رائے تھی کہ On the whole, the translation is very good" یہ ترجمہ مجموعی اعتبار سے بہت اچھا ہے۔ان ماہرین نے بعض مقامات کی تبدیلی کا مشورہ دیا جو قبول کیا گیا اور بعض جگہ ان کی عربی زبان سے عدم واقفیت کی وجہ سے ان کی مجوزہ اصلاح یا رائے رد کرنی پڑی۔اس ابتدائی نظر ثانی کے بعد یہ مسودہ سواحیلی زبان کے بعض دیگر فاضل و ماہر فریقین کو بھجوایا کہ وہ خالصہ زبان کے عام فہم اور صحت زبان کے بارے میں اپنی رائے دیں۔کچھ عرصہ بعد قریباً ۱۹۲۵ء میں ہمارے عزیز بھائی شیخ امری عبیدی جو لمبا عرصہ میرے ساتھ رہے اور مجھ سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے اور عربی سیکھنے اور دیگر دینی امور میں دسترس حاصل کرنے اور خدا داد صلاحیت کے باعث اس قابل ہو گئے کہ وہ اس پر مزید ما ہرا نہ تنقیدی نگاہ ڈال سکیں۔چنانچہ انہوں نے اس کا بغور مطالعہ ، موازنہ اور تصحیح کا کام شروع کر دیا اور عربی زبان سے اس کا تطابق اور درستی کی طرف بھی تو جہ دی اور کئی مفید مشورے دیئے۔چند سال کے بعد ہمارے دوسرے علماء نے بھی جو قرآنی علوم اور اسلامی علوم کے بھی ماہر تھے اور عربی اور سواحیلی دونوں زبانوں سے خاص واقعیت حاصل کر چکے تھے اس ترجمہ کو بڑے غور و فکر سے پڑھا، اپنی رائے دی، مشورہ دیا۔الحمدللہ سب افریقین اہلِ علم اور ہمارے علماء سواحیلی ترجمہ اور اس کی فصاحت سے متاثر اور خوش ہوئے۔ترجمہ میں تشریحی اور تغییری نوٹ بھی شامل کئے گئے کیونکہ ترجمہ کے کام کے بعد اس کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ تفسیری نوٹ بھی لکھے جائیں چنانچہ ۱۹۴۹ء کے آخر میں بالخصوص مندرجہ ذیل تین امور کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی سو نوٹ لکھے گئے :۔اول :- پہلی بات ان نوٹوں میں یہ مد نظر رکھی گئی کہ مشرقی افریقہ میں غیر مسلموں بالخصوص عیسائیوں کی طرف سے ان کے جرائد و رسائل اور کتب میں قرآن کریم کی کسی آیت یا تعلیم یا آنحضرت صلی اللہ