تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 152 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 152

تمہارے قلوب اسلام کی محبت اور درد سے معمور ہونے چاہئیں خواہ تم کن حالات میں سے گزرو۔اس محبت کا ہمیشہ لحاظ رکھا کرو اور مسلمان کی ہمدردی تمہارا طرہ امتیاز ہونا چاہیئے۔اس ہمدردی کا عملی ثبوت تم اس طرح دے سکتے ہو کہ ایک طرف تو تم دعاؤں سے کام کر اور دوسری طرف لوگوں کو صحیح مشورہ دیا کہ وہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اِن نَفَعَتِ الذکروای کہ تم ہمیشہ نصیحت کرتے رہا کرو کیونکہ نصیحت کرنے سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے خواہ تمہیں محسوس ہو یا نہ ہو۔دوسرا ذریعہ جو تم ان مشکلات کے ازالہ کے لئے اختیار کر سکتے ہو یہ ہے کہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمہیں تیار رہنا چاہیئے۔ہر احمدی کا یہ عزم ہونا چاہیئے کہ اگر خدانخواستہ ہمارے ملک پر کوئی مصیبت آئی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ اپنے مال، اپنی جائیداد ، اپنی زیلی غرض اپنی کسی چیز کی پرواہ نہ کرے گا اور ملک کی حفاظت و بقا کو مقدم رکھے گا۔یاد رکھو اراد سے اور عزم کو معمولی چیز نہ سمجھو یہ بہت بڑی چیز ہے۔یہی وہ چیز ہے جو وقت آنے پر تمہیں عمل کے لئے تیار کر سے کی مضبوطی کے ساتھ تیار رہنے اور عین وقت پر تیار ہونے میں بڑا بھاری فرق ہوتا ہے پس ابھی سے تیار ہو جاؤ اور یہ عزم کر لو کہ ہر مصیبت کے وقت تم اپنے ملک کی حفاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو گے۔غرض اس وقت عالم اسلام کی حالت ایسی ہی ہے جیسے ۳۲ دانتوں میں زبان۔اور یہ حالت اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں۔اب وقت ایسا ہے کہ مسلمان اگر مریں گے تو اکٹھے مریں گے اور اگر رہیں گے تو اکٹھے رہیں گے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس نازک حالت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کریں یعنی ایک طرف تو دعاؤں سے کام لیں اور جن لوگوں سے بھی انہیں واسطہ پڑے انہیں صحیح مشورہ دے کر قومی سپرٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور دوسری طرف حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ابھی سے تیار ہو جائیں " اے تقریر کے دوسرے حصہ میں حضور نے جماعت کے اخبارات و رسائل کی اشاعت بڑھانے ، الشركة الاسلامیہ اور اه روزنامه المصلح کراچی مورخه ۵ صلح ۱۳۳۳امش بر هر جنوری ۶۱۹۵۲ مگو &