تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 151
۱۴۱ فرمایا : کرتے تھے اور وہی پہنیں گے جو پہلے پہنتے تھے۔ادھر سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی تذلیل کے لئے ایسے وعدے کر لیا کرتی ہیں جو پورے نہیں کئے جاسکتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام غلط امیدیں قائم کر لیتے ہیں اور کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔سب سے بڑا سبب کمزوری کا وسیع پیمانے پر بری باتوں کی اشاعت اور ہر نقص اور کمزوری کا الزام حکومت کو دینے کی عادت ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر زید چوری کرے تو کہو کہ نہ یہ نے چوری کی بلکہ سرعام ایسا کہنے پر بھی اسلام پابندیاں لگاتا ہے مگر ہماری یہ حالت ہے کہ اگر ایک شخص رشوت لیتا ہے تو بد نام پورے ملک کو کیا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب نوجوانوں کے کانوں میں بار بارہ یہ پڑتا ہے کہ فلاں وزیر بھی بے ایمان ہے۔فلاں افسر بھی بے ایمان ہے تو وہ کہتا ہے که اگر باقی سب ایسا کرتے ہیں تو یکیں کیوں نہ ایسا کروں چنانچہ وہ بھی انہی عیوب میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس طرح قومی اخلاق تباہ ہو رہے ہیں ؟ اے حضور نے یہ تلخ حقائق بیان کرنے کے بعد جماعت احمدیہ کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی چنانچہ یہ تمام امور بتاتے ہیں کہ مسلمان اس وقت ایک نہایت خطرناک دور میں سے گزر رہے ہیں ایسا خطر ناک کہ اس کا احساس کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن ان امور کو حل کرنا بظا ہر ہمارے اختیار میں نہیں۔جن امور کو ہم حل نہیں کر سکتے ان کے لئے دعا کا خانہ موجود ہے اس لئے ہر احمدی سے یکیں یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اسلامی ممالک کے ان بچی پیدہ مسائل کے لئے بالعموم اور پاکستان کی مشکلات کے لئے بالخصوص دعائیں کرے تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان مشکلات کو دور فرما دے۔دعا کے علاوہ ان امور کے متعلق ایک اور چیز بھی ہمارے اختیار میں ہے اور وہ ہے لوگوں کو صحیح مشورہ دینا تا قوم میں ان مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صحیح سپرٹ پیدا ہو۔تم جہاں کہیں بھی جاؤ اپنے حلقہ اثر میں لوگوں کو صحیح مشورہ دیا کرو اور انہیں بتا یا کرو کہ یہ دن آپس میں بڑنے کے نہیں ہیں بلکہ باہمی اختلافات کو فراموش کر کے متحد ہونے اور ملک کے مفاد کے لئے قربانی کرنے کے ہیں۔یا د رکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی حفاظت اور خدمت کے لئے مامور کیا ہے اسلئے ل روزنامه المصلح کراچی در مصلح ۱۳۳۳ اعمش سر د جنوری ۶۱۹۵۴ ۲۰۳۰ به