تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 142
۱۳۲ سات افراد موٹروں کے ڈرائیور و معاون وغیرہ تھے۔ہندوستانی احباب کی تعداد دو صد کے قریب تھی۔قادیان پہنچنے پر لالہ لیکھراج صاحب گاندھی ڈی۔ایس پی بٹالہ نے سرکارہ کی طرف سے قافلہ کا استقبال کیا اس کے بعد بھی آپ انسپکٹر صاحب پولیس اور مقامی انچارج صاحب پولیس ملک چندر بھان صاحب کی امدا د سے جلسہ کے ایام میں ہر طرح سے حفاظتی انتظامات کی دیکھ بھال کرتے رہے جلسہ کی تاریخوں میں جملہ انتظامات کی نگرانی کے لئے بخش سیتا رام صاحب تحصیلدار بٹالہ میٹر سوشیل کمار صاحب جینی مجسٹریٹ درجہ اول بٹالہ اور مسٹر آر۔ڈی طہوترہ صاحب ریزیڈنٹ میجسٹریٹ بٹالہ علی الترتیب ۲۶-۲۷ اور ۲۸ دسمبر کو تشریف لائے اور تقاریر بھی سکتے رہے۔لہوترہ صاحب نے جلسہ سننے کے بعد قرآن کریم کا ایک مبارک نسخہ بغرض مطالعہ بھی طلب فرمایا جو اُن کو پیش کر دیا گیا۔مورخہ ۲۸ دسمبر کو جناب سردار گور بچن سنگھ صاحب با جوه و زیر پبلک ورکس حکومت پنجاب جن کی خدمت میں جلسہ میں شمولیت کے لئے نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے دعوت نامہ بھجوایا گیا تھا۔چندی گڑھ راجد معانی سے تشریف لائے اور پون گھنٹہ تک پہلے اجلاس میں شامل ہو کہ تقاریر سنتے رہے۔جناب باجوہ صاحب کا استقبال جماعت کی طرف سے جناب مولوی برکات احمد صاحب را جیکی ناظر امور عامہ اور جناب شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال نے کیا۔باجوہ صاحب نے پاکستانی قافلہ کے امیر جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب سے بھی ملاقات کی اور اس روحانی تقریب کے متعلق تبادلہ خیالات کرتے اور حالات سُنتے رہے۔قادیان اور دوسرے مقامات کے ہند و اسکھ اور عیسائی معززین کثرت کے ساتھ اجلاسات میں شامل ہو کر تقاریر کو شوق اور توجہ سے سنتے رہے۔غیر مسلم سامعین کی تعداد دوسرے اور تیسرے دن ہر اجلاس میں ڈیڑھ ہزار کے قریب رہی جن میں کالج کے طلباء اور پروفیسر صاحبان ، سکولوں کے اساتذہ ، بعض قومی لیڈران اور ہر طبقہ کے معززین شامل تھے۔اور کئی غیر مسلم دوست جلسہ میں شمولیت کے لئے دہلی لکھنو اور کلکتہ وغیرہ سے بھی آئے تھے مورخہ ۲۷ دسمبر کو جناب با و اہرکشن سنگھ صاحب پرنسپل سکھ نیشنل کالج قادیان بھی جلسہ میں شامل ہوئے اور تنکانہ صاحب کا کل حاصل کیا۔مورخہ ۲۷ کو جناب پنڈت موہن لال صاحب ایڈووکیٹ بٹالہ ممبر ہی لیٹو کونسل پنجاب اور جناب چوہدری بشیر الدین صاحب دھار یوال ممبر کو نسل نے بھی جلسہ میں شمولیت کی۔بڑی دلچسپی سے تقاریر کو شنا اور بعد میں اس بات کا مسرت سے اظہار کیا کہ موجودہ مادیت کے زمانہ میں ایسی تقاریرہ کی بہت ضرورت ہے