تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 138
۱۲۸ جلسہ کو سلام کیا ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں فرمائی بلکہ اس وقت جلسہ کے اندر جو لوگ موجود ہیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو ہوں یا سکھ ہوں یا عیسائی ہوں سب کو سلامتی کا پیغام دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سلامتی ہو خدا کی طرف سے تم سب پر۔حضور نے اپنی جماعت کو یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے ارادوں اور امنگوں کو بلند رکھو اور اپنے اخلاق کو ایسے عمدہ نمونہ میں لوگوں کے سامنے پیش کرو کہ وہ تمہارے گرویدہ ہو جائیں۔پھر فرمایا ہے کہ تم سب اتحاد اور اتفاق کو قائم رکھ کر انسان اور انسانیت کے حقوق کے تحفظ کے لئے وہ قربانیاں کرتے چلے جاؤ جو اس کے لئے ضروری ہیں اور تم چونکہ دعوی کرتے ہو کہ ہم دنیا میں امن کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اتنے بڑے اور اہم کام کے لئے اسی نسبت سے قربانیاں بھی کرو اور اپنے اندر خدائی صفات اور خدائی اخلاق پیدا کرو اور اپنے آپ کو اِس رنگ میں ڈھال لو کہ تمہارا چلنا ، تمہارا پھرنا، تمہارا بیٹھنا، تمہارا اُٹھنا، تمہاری حرکت بلکہ تمہارا سکون اور تمہاری خوشی بھی اپنے اندر امن اور محبت کا پیغام رکھتی ہویا ہے اس جلسہ میں مندرجہ ذیل بزرگوں اور فاضل مبلغین نے تقاریر فرمائیں :- (۱) حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعت احمدیہ قادیان (افتتاحی خطاب ) - (۲) صاحبزاده مرز ا وسیم احمد صاحب ( ذکر حبیب) - (۳) مولانا عبد المالک خاں صاحب فاضل مبلغ کراچی (خاتم انبیین کا مفہوم جماعت احمدیہ کے نزدیک ) - (۴) مولانا محمد اسمعیل صاحب دیا لگڑ ھی مبلغ لائلپور ( حضرت مسیح موعود کی پیش گوئیاں )۔(۵) مولانا محمد ابراہیم صاحب فاضل قادیانی (ہندوستان میں مسلمانوں کے کارنا ہے)۔(4) حضرت حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری ناظر تعلیم و تربیت قادیان ( ایک مثالی احمدی کا خاکہ)۔( ) مولانا شریف احمد صاحب امینی (زمن کا شہزادہ) (۸) گیانی مرزا و احمد حسین صاحب مبلغ سلسلہ (مسلمان اور سکھ)۔(9) چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء (۱۰) مولانا غلام احمد صاحب بد و ملهوی ( اسلامی تاریخ کے ناقابل فراموش واقعات ) - (۱۱) مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری ( اسلام میں ایشور بھگتی )۔(۱۲) مولانا محمداسمعیل صاب فاضل وکیل یادگیر حیدر آباد دکن (مودودیت)- (۱۳) مولانا محمد سلیم صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ (حضرت لے ہفت روزہ "بدر" قادیان مورخہ ، جنوری ۱۹۵۴ء مٹہ کالم م :