تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 131 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 131

حوم ۱۲ جمع ہوتا ہے تو چند سے پہلے سے زیادہ ہیں اور اگر تحریک جدید کے چندوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔مہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی دی ہوئی نعمت ہے۔چاہیے کہ اس پر جماعت کے اندریش کوریہ کا احساس پیدا ہو ہمیں افسوس ہے کہ دوسرے لوگوں نے ہمارے اس کام کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔اگر وہ ہماری نقل کرتے اور بنیں گاؤں اور آباد کر لیتے تو ہم خوش ہوتے کہ انہوں نے پاکستان کی مضبوطی کا ثبوت دیا ہے اور فاتحانہ سپرٹ کا اظہار کیا ہے لیکن کام کرنے کی بجائے دوسروں پر دباؤ ڈالنا شکست کی علامت ہوتی ہے۔یہ ایک قابل فخر کارنامہ تھا کہ جڑ سے ہوئے لوگوں نے ایک شہر بسا لیا اور ہماراملک اس کارنامے پر دوسرے ملکوں میں فخر کر سکتا تھا اور کہ سکتا تھا کہ آؤ دیکھو ہمارے مہاجروں نے کیسا شاندار کارنامہ سر انجام دیا ہے اور ان لوگوں نے مصائب پر ہنسنے کی توفیق پائی ہے۔ہر حال جماعت کو چاہیے کہ وہ دعا کر سے کہ ہم جس مقصد کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اسے پورا کرنے کی توفیق بخشے۔ہمارا مقصد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ وسیلے ہوں۔دینی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ یہاں جمع ہوں اور وہ یہاں رہ کر دینی تعلیم حاصل کریں۔ذکر الہی نماز او روزہ کا چرچا ہو۔بڑی رسومات سے بچنے کی توفیق ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں ان تینوں اورا را دوں کو پورا کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے۔اس شر سے بھی جو ماحول کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں نظر بد سے بچائے اور اس شہر سے بھی جو خود ہمارے نفس کے اندر پید اہو سکتا ہے۔ہمیں بیرونی نظر بھی نہ لگے اور اندرونی طور پر بھی ہماری اصلاح ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں ان فرائض کو کما حقہ پورا کرنے کی توفیق دے جو ہمارے ذمہ لگائے گئے ہیں اور اسلام اُس وقت ترقی کرے گا جب ہم ان فرائض کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پرینا کئے گئے ہیں اگر ہم ان کے مطابق زندگی بسر نہیں کریں گے تو اسلام ترقی نہیں کر سکتا اور اگر ہم نے اشاعت دین کی طرف توبہ نہ کی تب بھی اسلام ترقی نہیں کر سکتا۔پس تم دعائیں کرو۔ذکر الہی کرو اور اپنے اعمال کی اصلاح کرو تا خدا تعالی تمہیں اشاعتِ