تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 123
سے ہجرت کا جو صدمہ ہماری جماعت کو پہنچ سکتا تھا اور پہنچا اس میں کوئی دوسری جماعت ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی شریک نہیں۔اور شریک نہیں ہو سکتی تھی۔میری توبہ تو اللہ تعالیٰ نے ۶۱۹۳۲ سے ہی ادھر پھیر دی تھی کہ ہمارے لئے اس قسم کا کوئی صدمہ مقدر ہے۔چنانچہ یہ بات میرے ۱۹۳۲ء کے خطبات میں موجود ہے جن میں یہ مضمون بڑے زور سے بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد اس کی تکرار رہی ہے لیکن ہماری جماعت نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔لیکن یہ نہیں کہتا کہ یہ ان کی کسی غلطی یا کمزور ٹی ایمان کی وجہ سے تھا بلکہ یہ ان کی مضبوطی ایمان کی وجہ سے تھا۔ہاں یہ انہی کلاموں کی تشریح میں کوتاہی اور غفلت کا ثبوت ضرور تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں میں یہ بات موجود تھی کہ قادیان ترقی کرے گا ، بڑھے گا ، پھولے گا اور پھلے گا اور احمدیت اس جگہ کہ اسنے ہو گی۔اس لئے جماعت احمدیہ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے الہاموں اور شیگوئیوں پر پورا یقین تھا اس میں شہر کرنے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں تھی اور یہ ماننے پر آمادہ نہیں تھی کہ قادیان سے انہیں ہجرت کرنا پڑے گی۔پس ان کا اس بنیاد پر یہ یقین رکھنا کہ چاہے کتنے ہی حوادث ہوں یہ جگہ ہمارے ہاتھ سے نہیں جائے گی ان کے ایمان کا ثبوت ہے لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ الہی کلاموں اور ان کی تشریکوں میں جو کبھی کبھی تعطل واقع ہو جایا کرتا ہے اور کبھی کبھی ان کی تعبیر وقتی طور پر ٹل بھی جایا کر تی ہے۔اس کے سمجھنے میں ان کی طرف سے کوتا ہی واقع ہوئی۔جن دنوں قادیان پر حملے ہو رہے تھے اور ہم سب دُعاؤں میں مشغول تھے میں ایک دن بہت ہی زور سے دُعا کر رہا تھا کہ مجھے الہام ہوا اينما تكونوا يأت بكم الله جميعا۔میں نے اس وقت سمجھ لیا کہ ہمارے لئے عارضی طور پر پراگندگی ضروری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی جاؤ کی کسی دن برکت اور یمین کے ساتھ تم سب کو واپس لے آؤں گا۔یہ آیت قرآن کریم میں ہے اور در حقیقت یہ سلمانوں کے ہجرت کے بعد مکہ واپس آنے پر دلالت کرتی ہے اور اس میں دونوں پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں ہجرت کی بھی اور ہجرت کے بعد مکہ واپس آنے کی بھی لینے پہلے ہجرت ہوگی اور پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابی کے ساتھ مگر واپس لائے گا۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ ہم قادیان واپس جانا چاہتے ہیں اس لئے ہم ہندوستان