تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 117 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 117

کو پہنچ گئیں اور صدر انجمن احمدیہ و تحریک جدید کے دفاتر اپنی مستقل عمارات میں منتقل ہوئے تو ضروری سمجھا گیا کہ سید نا حضرت المصلح الموعود کی خدمت اقدس میں درخواست کی جائے کہ حضور اس موقعہ پر تشریف لا کر اجتماعی دعافرمائیں اللہ تعالیٰ ان نئی عمارات کو سلسلہ کے لئے با برکت بنائے اور کارکنوں کو اخلاص اور قربانی اور فدائیت کے جذبات کے ساتھ خدمت دین کی توفیق بخشے چنانچہ 4 ارماہ نبوت ۱۳۳۲ مش / ۱۶ نومبر ۱۹۵۳ء کو جبکہ صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر نئی عمارت میں منتقل ہو رہے تھے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضور کی خدمت بابرکت میں اطلاع بھجوائی گئی کہ دفاتر صدر انجمن احمدیہ نئی عمارت میں منتقل ہو رہے ہیں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس نئی عمارت کو سلسلہ کے اداروں اور کارکنوں کیلئے مبارک اور مثمر ثمرات حسنہ کرے نیز لکھا کہ ارادہ ہے کہ جب پور اٹک سکاؤ ہو جائے تو اس وقت حضور کی خدمت میں عرض کیا جائے کہ موقعہ پر تشریف لاکر اجتماعی دعا فرمائیں۔چنانچہ جب دفاتر کا تمام سامان نئی عمارت میں منتقل ہو چکا تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے وکالت علیا اور انجمن تحریک جدید کے مشورہ کے ساتھ حضور کی خدمت میں مشتر که درخواست ارسال کی که اگر حضور پسند فرمائیں تو صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے دفاتر کی افتتاحی دُعا کے لئے ۱۹ر نومبر ۱۹۵۳ (مطابق ۱۹ار ماه نبوت ۱۳۳۲ ش) بروز جمعرات صبح دس بجے کا وقت رکھ لیا جائے حضور نے منظوری مرحمت فرمائی او ارشاد فرمایا کہ ایسے موقعہ پر کچھ غرباء کے لئے اور کچھ خوشی کے لئے بھی خرچ کر لیا جائے تو کچھ حرج نہیں؟ حضور کی منظوری حاصل ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزہ البشیر احمد صاحبت اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب قائم مقام وکیل اعلیٰ نے اس افتتاحی تقریب کا باقاعدہ پروگرام مرتب کیا جو مندرجہ ذیل شقوں پر مشتمل تھا :- اول۔ہر دو دفاتر کی درمیانی سٹرک پر غربی دروازوں کے سامنے ناظر صاحبان صدر انجمن احمد یہ اور (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ہر حال اگلے سال تک ہال بن جانا چاہیے۔روپیہ منظور ہے، اور دفاتر کی جگہ پر نشان لگا دیا گیا ہے۔اس سال دفاتر مکمل ہو جانے چاہئیں تا کہ اگلے سال مجلس شوری کا اجلاس وہاں ہو سکے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۵۲ ص ۱۱ )