تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 109 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 109

۱۰۴ ہو جس کا یہ کام ہے کہ وہ فیضانِ الہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ حاصل ہوا ہے تم اُسے آگے چلاتے چلے جاؤ اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے تو تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جو کبھی نہیں مرے گی اور اگر تم اس فیضان الہی کے رستہ میں روک بن گئے ، اس کے رستے میں پتھر بن کر کھڑے ہو گئے اور تم نے اپنی ذاتی خواہشات کے ماتحت اسے اپنے دوستوں رشتہ داروں اور قریبیوں کے لئے مخصوص کرنا چاہا تو یا د رکھو وہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہوگا پھر تمہاری عمر کبھی ملیں نہیں ہوگی اور تم اسی طرح مر جاؤ گے جس طرح پہلی قومیں مریں لیکن قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ قوم کی ترقی کا رستہ بند نہیں انسان بے شک دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہتا لیکن قومیلی زندہ رہ سکتی ہیں ہیں جو آگے بڑھے گا وہ انعام لے جائے گا اور جو آگے نہیں بڑھتا وہ اپنی موت آپ مرتا ہے اور جو شخص خود کشی کرتا ہے اُسے کوئی دوسرا بچا نہیں سکتا ؟ لے نوجوانان احمدیت میں دینی تعلیم کوفروغ دینے جلس خدام الاحمدی مرکزی بود کی تربیت کا نمبر ا ا ا ا ا ا ا اور ارکان کی تربیتی کلاس یه کلاس منبره مجلس خدام الاحمدیہ یہ نے ہمیشہ ایک موثر کر دار ادا کیا ہے۔قیام پاکستان کے بعد اس کلاس کے لئے سید نا حضرت مصلح موعود کی خاص ہدایت کے ماتحت خاص نصاب تیار کیا گیا اور حضور کے منتخب فرمودہ اساتذہ ہی تعلیم دینے پر مقرر۔۔۔۔کئے گئے جس سے اس کلاس کی افادیت و اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔۱۹۵۳ ء میں یہ پندرہ روزہ تربیتی کلاس جو پاکستانی دور کی پانچویں کلاس تھی، ۲۷ اکتوبر سے 11 نومبر تک ربوہ میں بھاری رہی جس میں سات خدام شامل ہوئے۔(۱) شیخ ارشاد احمد صاحب اوکاڑہ (۲) شیخ حمید احمد صاحب چنیوٹ (۳) محمد ہارون خان صاحب ربوه (۲) ناصر احمد خاں صاحب ربوه (۵) حامد نور صاحب ربوه (۶) مولوی بشیر احمد صاحب میر کراچی (6) محمد لطیف صاحب شاکر کوئٹہ۔اس کلاس میں اول الذکر پانچ نمائندگان ہی آخر وقت تک شامل رہے اور دوسرے نمائندوں کو کلاس کے دوران ہی رخصت لے کر واپس جانا پڑا۔اس کلاس میں محمد ہارون صاحب نے نمبر حاصل له الفضل ۲۳ مئی ۶۱۹۶۱ ہجرت ۱۳۴۰ مش مرتاد