تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 100 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 100

۹۵ کھڑے ہوئے۔پھر فرمایا ) جو خدام صنعت و حرفت کا کام کرتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں (حضور کے اس ارشاد پر انچاس اقدام کھڑے ہوئے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا ، وہ ذریعہ جو یکی تمہیں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ تم ارادہ اور عزم کر لو کہ تم میں سے ہر ایک نے اس سال کسی ایک شخص کو تجارت پر لگانا ہے۔۔۔مرکزی ادارہ کو چاہیے کہ وہ ان خدام کے نام لکھ لے اگلے سال ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اس ہدایت پر کس حد تک عمل کیا ہے۔اگر تم اس کام کو شروع کر دو تو دو چار سال میں تم دیکھو گے کہ اس طریق پر عمل کر کے تم مذہب ، ملک اور قوم کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکو گے۔مگر یاد رکھو تم یہ سوچنے میں نہ لگ جانا کہ جس کو کام پر لگایا جائے وہ تمہارا رشتہ دار ہی ہو۔چاہے وہ غیر ہی ہو تم نے ہر حال اسے کام کھانا ہے۔دوسرے یہ بھی یاد رکھو کہ بعد میں کسی فیصلہ کی اُمید نہ رکھنا۔احسان کرنے کے بعد اس کے میلہ کی امید رکھنا قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے الے دوسری تقریر (مورخه ۵ ر اخاه ۳۳۲اہش / اکتوبر ۱۹۵۳ء) عین اجتماع کے ایام میں حضرت مصلح موعود پر عالم رویا میں سلم قوم کے اصل فلسفہ زوال کا انکشاف ہوا اور بتایا گیا کہ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صرف ۳۳ برس کے بعد ہی خلافت کے بابرکت آسمانی نظام سے کیوں محروم ہو گئے ؟ حضور نے اس رویا کی بناء پر اپنی دوسری تقریر میں نوجوانان احمدیت کو توجہ دلائی کہ انہیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ آئندہ ایسے حالات کبھی پیدا نہ ہوں جن کی بناء پر قبل انہیں امت مسلمہ سے خلافت جیسی عظیم نعمت چھن گئی۔حضور نے اس مہتم بالشان تقریر میں خاص طور پر اس نکتہ پر زور دیا کہ افراد مر سکتے ہیں لیکن قومیں اگر چا ہیں تو خلافت کے قیام و استحکام کے ذریعہ سے ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں چنانچہ فرمایا :۔انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔کوئی انسان ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو لیکن قومیں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں یہی امید دلانے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ :- له روزنامه الفضل “ مورخه ۱۸ اخاء ۱۳۲۰ پیش / ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۱ء صگ